تہذیبِ نفس اور تعمیرِ ملت

قرآن سے رہنمائی لینے کا لازمی تقاضا ہے کہ ہم اُس پسِ منظر اسلوب اور غایت سے واقف رہیں جو قرآنِ مجید تعلیم و تربیت کے حوالے سےعنایت کرتا ہے۔

پسِ منظر!

بچوں کو یہ بات اس قدر باور کرانا کہ اُن کی طبع کا ذوق اور حصہ بن جائے۔وہ یہ کہ انسان اللہ کا خلیفہ ہے۔اس کا جسم مادی جہان(Physical Universe)  کا نچوڑ ہے اور اس کی روح غیر طبعی جہان(Metaphysical World)  کا جوھر (Essence)  ہے۔اس معلوم حقیقت کو معلم سائنسی طور پر بھی ثابت کر سکتا ہے۔جدید دور کے تشعیر پسندوں(Scientists)   کے علاوہ مسلم حکماء (Muslim Scientists)  الکندیؒ، فارابیؒ، ابنِ سیناؒ، غزالیؒ، ابن ماجہؒ،  ابن ِ طفیلؒ، ابنِ رشدؒ، اخوان الصفاؒ(مقدسیؒ، زنجانیؒ، مہرجانیؒ،عوفیؒ، زید رفاعیؒ، ابنِ ہشیمؒ، ابن عربیؒ اور ابنِ مسکویہؒ وغیرھم نے بھی اس آفاقی نظریہ کو نہایت خوبی سے شرعی دلائل کے    ساتھ ساتھ خالصتاََ فلسفیانہ اور سائنسی طرزِ استدلال سے ثابت کیا ہے۔اس کا افادہ یہ بھی ہو گا کہ ہم بچوں کو ان کے وجود اور تشخص کا اعلیٰ و ارفع احساس دلانے کے علاوہ اُن کو اُن کی متاعِ گم گشتہ سے متعارف کر سکیں گے اور اُن کے اندر احساسِ تفوُّق و تفاخر پیدا ہو گا۔ایک اور فائدہ یہ ہو گا کہ قدیم و جدید کے درمیان اُن کو مطابقت اور امتزاج محسوس ہو گا جو  اُن کو وابستگی کو اور ذیادہ قوّی بنائے گا/

اگر ہم بچوں کو یہ احساس دلانے میں کامیاب ہو گئے کہ انسان کا وجود نہایت اہم ہے،کائنات کے تمام اجسام ، وسائل و ذرائع کے درجہ میں ہیں، انسان کائنات کا مرکز و محور و مقصد ہے ۔انسان ضروریات سے وابستہ ضرور ہے لیکن اُس کی تخلیق کا مقصد صرف خواہشات اور ضروریات کے حصول میں منہمک رہنا نہیں ہے ۔ساری کائنات انسان کی خدمت پر مامور ہے۔ملائیکہ علیھم السلام اس کے لیے اللہ کا پیغام لاتے ہیں۔سورج اس کو توانائی اور روشنی مہیا کر رہا ہے۔چاند سورج کی روشنی منعکس کر کے اس کو شفافیت پہنچا رہا ہے۔زمین اس کے لیے رزق اُگارہی ہے۔ بارش اِس کےلیے رزق برسا رہی ہے۔الغرض کائنات کلّی اور جزوی ہر دو لحاظ سے اس کی خدمت میں مشغول ہے۔اب سوچنا یہ ہے کہ اس کا اپنا شَغَل کیا ہونا چاہیے۔ظاہر ہے یہ اللہ کا خلیفہ ہے، اس کا شغل اللہ کی نیابت ہے۔اللہ کی نیابت کا مطلب اللہ کے خُلق اور صفات کا تخلُّف اور تتبع ہے۔جس طرح قرآنِ عظیم میں ارشاد وارد ہوا

صِبْغَةَ اللّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّهِ صِبْغَةً

ترجمہ:۔ اللہ کا رنگ اخیتار کر و اور اللہ سے اچھا رنگ اور کس کا ہو سکتا ہے۔

حکیم الامت ؒ فرماتے ہیں

خویش را صبغۃ اللہ رنگ دِہ

عشق را ناموس و نام و ننگ دِہ

جب ہم بچوں کے طبائع میں یہ احساس اُجاگر کر دیں گے کہ ان کا مقام و تشخص کیا ہے تو ان کو اپنی ذمہ داریوں، اہمیت و افادیت کا گہرا احساس ہو جائے گا۔ہم تدریس میں اِس قرآنی فکر سے رہنمائی لیں جو قرآن کے اندر  مضمّر ہے۔بقول حکیم الامۃؒ

گرچہ من صد نکتہ گفتم بے حجاب

نکتہ دارم کہ ناید در کتاب

اللہ کے اسماء میں صرف ورد ہی کا نہیں، تخلف ، تربیت، شخصیت و سیرت سازی کا پورا عمل اور تصور موجود ہے۔

رسول اللہ ؐ نےاِس نظامِ تربیت کی طرف نہایت بلیغ توجہ دلائی ۔مثلاََ

اَحَد، واحِد اسماءِ الٰہیہ ہیں۔حبیبِ پاکؐ ان اسماءِ مبارکہ کے تخلُّف و تتبع کا حکم اس طرح مرحمت فرماتے ہیں

  1. وَحِّدُو ا لللہِ، اللہ کے لیے ایک ہو جاو ۔یعنی اے بنی آدمؑ ، اتحاد و اتفاق اختیار کرو۔یہ دراصل توحید کی کارفرمائی، توحید کا تخلُّف اور اُس کی اعتباری اور بروزی برکت ہے۔حکیم الامت ؒ نے اس تصور کو نہایت سطوت کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔
     زندہ قوت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی

آج کیا ہے فقط ایک مسئلہ ء علم ِ کلام

روشن اِس ضَو سے اگر ظلمتِ کردار نہ ہو

خود مسلماں سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقام

  1. اللّٰہَ جَمِیْلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ
    یعنی زندگی میں جمالیاتی رویہ اور حسنِ اخلاق پیدا کرو
  2. اللہ الوترَ و یُحِبُّ الوِتر
    اللہ یکتا ہے اور یکتائی کو پسند کرتا ہے
  3. 1
  4. روح منزل تھرڈ فلور، ، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد

    0335-7771005، 0515162023