کالم نگار: زید گل خٹک(ایڈوائزر روح فورم)

آج صبح سویرے تلاشِ روزگار میں سرگرداں میرے ایک فرزند کا فون آیا
بابا! میں فارم پُر کر رہا ہوں، ایک خانہ ابھی تک خالی رکھا ہے۔وہاں کیا لکھوں! کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔بابا! Sect کے آگے کیا لکھوں؟
احبابِ ذی احتشام!
یہ فارم ایک مقتدر ، معروف اور منظم سرکاری ادارے نے ترتیب دیا ہے۔اگر اس فارم میں بھی تفرُّق کے اشتعالات مرقوم ہیں تو پھر اتحاد و یگانگت کے آداب کہاں سکھائے جائیں گے۔افراط و تفریط اور تفرُّق و تشتُّت کا جو نامسعود سلسلہ ناصبیت سے شروع ہوا تھا پھر خارجیت، جبریت، قدریت، خَلقیَّت ، کیسانیت، نصیریّت، مرجیت، مرھبیّت و غیرھم کے لبادے اُوڑھتے اوڑھتے اپنی نحوستوں کے سائے پھیلتا چلا گیا، آج اُس کا تحوُّل(Extending Effect) قومی اور سرکاری اداروں تک وسیع ہو گیا۔حضراتِ ذی قدر یہ بہت بڑا لمحہ ء فکریہ ہے ۔اس کا استحضار لازم ہے۔یہ ایک سانحہ ہے، اس کا تدارک ضروری ہے۔اس تفرقہ بازی کے اسباب و علل داخلی او ر خارجی سطح پر رونما ہوتے آئے ہیں۔جہاں تک کتاب و سنۃ کے براہین و محکمات و متواترات کا تعلق ہے وہاں تو ظاہر ہے تفرقہ بازوں کو ایک لمحہ کے لیے بھی پناہ میسر نہیں ہے ۔وہاں وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِیعًا وَ لاتَفَرَّقُوا کا نعرہ اس قدر زور سے گونج رہا ہے کہ تفرقہ بازوں کے دل دھل جاتے ہیں۔
تفرقہ بازوں کا ٹھکانہ استدلال، تاویلات، تعبیرات، روایات، تواریخ اور خرافات کی پُرخار وادیوں میں ہے۔ان وادیوں میں اگر صحتِ فکر کا لشکرِ جرّار کریک ڈاون شروع کر دے اور یہاں سے تفرُّق کے ببول اور تلچھٹ کھرچ ڈالے جائیں تو پھر اس نفاق کے پاس کوئی مَصِیر(Refuge) نہیں ہے۔آئیے اپنے نونہالوں کو سمجھانا شروع کر دیں کہ اسلام، دین اور مذہب کیا ہیں۔
اسلام اللہ کی منشاء(Will of God) ہے۔کائناتِ امری و خَلقی میں توفیقی اختیار کی متحمل صرف ایک مخلوق ہے اور وہ ہے انسان،باقی پوری کائنات خلیفۃ اللہ یعنی انسان کے لیے حسنِ انتظام اور متاع ہے۔اللہ تعالیٰ نےانسان کے وجود میں جس طرح فطری طور پر ہدایت و ودیعت کی ہے وہاں تشریعی لحاظ سے بھی اس کے لیے ہدایت کے نزول کے انتظامات فرمائے ہیں۔سیدنا وجَدُّنا آدمؑ سے لے کر ختمی المرتبت حضورِ پر نور ؐ تک تمام انبیاءؑ و رُسُلؑ پر اسلام کی صورت میں اپنی اُس منشاء کا انکشاف کیا جو اللہ نے تمام انسانوں کے لیے تدبیر فرمائی ہے۔تمام انبیاءؑ کا مشن اُس منشاءِ الہیٰ کی اشاعت رہا ہے جس کا نام اسلام ہے۔رسول اللہؐ پر وہ منشاء اپنی جامعیّت ، اکملیّت اور ختمیّت(Perfection & Completion) تک پہنچا۔
ہمارے خواندہ طبقہ میں اس نظریہ (Concept) کا رجحان کہ اسلام تو بس حبیب ِ پاکؐ کی بعثت سے شروع ہوا اِس سے پہلے کی امتوں کا سلسلہ ء ہدایت کچھ اور تھا، انتہائی خام خیالی ہے۔اس چیز کا آگہی کی سطح پر تدارک ضروری ہے۔دین ، اسلام کی روشنی میں اختیار کیا جانے والا وہ راستہ، وہ شاہراہ، وہ طریق، وہ صراطِ مستقیم، وہ سبل السَّلام ہے جس پر تمام انبیاءؑ و الرسلؑ پر چلتے رہے ہیں۔دین کا مصدر ہی دَوَّنَ ہے یعنی وہ راستہ جس پر اہلِ خیر چلے ہوں اور وہ سیدھا اور ہموار ہو۔
تمام انبیاءؑ کا اسوہءِ رسول ؐ کے اسوہءِ حسنہ میں ضَم ہو گیا اور اب آپؐ کا اسوہءِ کاملہ تمام بنی نوعِ انساں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔اصلاح، فلاح، امن اور رفاہ کا جادہءِ مستقیم ہے۔
مذہب کا لغوی مادہ زَھَبَ ہے۔زَھَبَ کا مفہوم چلنا ہے۔اس لفظ میں سوچنے کا مفہوم بھی مثلاََ اذھبت الی ھذا الرائے میں اس سوچ کی طرف چلا گیا۔
یہاں سے فکر کی امواج کو سطحءِ نمو میسر ہے۔اب صورتِ واقعہ یہ ہے کہ قابلیتیں اور طبائع یکساں نہیں ہوتے۔اس لیے فکری دنیا میں اختلاف ہو جاتا ہے۔یہ اختلاف Approach کا اختلاف کہلاتا ہے یا پھر سیاست کا اختلاف ہوتا ہے۔سنی ، شیعہ اختلاف بس ایسا ہی اختلاف ہے یعنی سیاست و ترسیل (Politics & Approach) کا اختلاف! یہ قطعاََ اسلام اور دین کا اختلاف نہیں۔کہ اس بنیاد پر فرقوں کو مشخَّص کیا جائے اور Sect کے خانے بنائے جائیں تا کہ نوخیز لڑکے لڑکیاں اُن خانوں کو پُر کرتے کرتے بے خانماں ہو جائیں۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
(علامہ اقبالؒ)
بسا اوقات ان تفرقات کی عقب میں حرص و اغراض ، مال ومنفعت اور اشتہاء و ضرورت بھی کارفرما ہوتے ہیں۔فلسفی ءِ عالی جناب ابنِ رشدؒ عمدہ بات فرما گئے ہیں
“آبادی کو رزقِ حلال کے حصول کے لیے کسب و کار میں مصروف کر دو، معاشرہ ٹوٹنے سے محفوظ رہے گا”
سرِّ دیں صدقِ مقال ، اکلِ حلال
خلوت و جلوت تماشائے جمال
(حکیم الامتؒ)
۔
اسوہء حسنہ اور فکرِ اقبالؒ کی روشنی میں آپ بھی فورم کو اپنی تحریریں بھیج سکتے ہیں ۔مشاورتی کمیٹی کے جائزے کے بعد انھیں شائع کیا جائے گا
روح منزل تھرڈ فلور، ، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد
0335-7771005، 0515162023