ہم وہ خوش قسمت امتی ہیں جن کی نسبت امین ِ تاجر حضورؐ سے ہے۔آپؐ جب بچپن میں اپنے غمگسار چچا حضرت ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ شام کے لیے سفرِ تجارت پر نکلے تو بحیرہ راھب نے ان کی کشادہ پیشانی کا مطالعہ کیا اور سمجھ گیا کہ اسوہءِ کامل کا ظہور ہونے کو ہے اور اس میں ہر گوشہءِ حیات کے لیے مکمل روشنی موجود ہے۔راھب نے رازِ کائنات جھٹ سے حضرت ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بتا دیا۔وہ خوشی سے نہال ہوئے اور سامانِ تجارت سرِ راہ بیچ کر مکہ ء مکرمہ واپس آئے۔سردارانِ قریش کو جمع کیا اور خوشخبری سنائی۔
رحمتِ عالم جوان ہوئے تو طیبہ طاھرہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مالِ تجارت لے کر شام گئے۔یہ دراصل تجارتی جڑت(Business Integration) تھی جس نے بعد میں مستقل خانگی تعلق اختیار کیا۔اس واقعہ سے Business Corporate کلچر کا تصور بھی نفاست کے ساتھ ابھرتا ہے۔اس واقعہ کا ایک اور نمایاں پہلو تجارتی دیانت و صداقت ہے جس کے نتیجہ میں اتنا نفع ہوا کہ جو لوگ خوشحال ہوئے انھوں نے اس نفع کے قصے اور برکات سب تاجروں کو مزے لے لے کر سنائے۔
وقت گزرتا رہا۔قرآن کا نزول شروع ہوا۔رسول اللہ ؐ نے سب سے پہلے اہلِ بیت کو جوڑا۔پھر اپنے دوستوں کو جوڑا۔صفا چوٹی پر چڑھ کر تمام اہلِ مکہ کو جڑت کی دعوت دی۔تمام مصائب و آلام کا سامنا کیا۔جب جڑت کا یہ عمل مکہ مکرمہ میں پنپ نہیں رہا تھا تو آپؐ نے مدینہ طیبہ کا رخ کیا۔انصار و مہاجرین نے تجارتی جڑت(Business Integration) کی ایسی عمدہ مثال قائم کی کہ یثرب(تنگ دستی کا شہر) خوشحالی کا گہوارہ بن گیا اور ہر زبان پر مدینہ مدینہ کی صدائیں بلند ہونے لگیں
(یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی ) کا سلسلہ جاری رہا اور ایک عرب تاجر شیخ عبدالاحد زیدتیمی نے ہندوستان کا رخ کیا اور تجارتی تعاون کی ایسی داغ بیل ڈالی کہ حالیؒ کو کہنا پڑا
ملایا میں ہیں ان کے آثار اب تک
انہیں رو رہا ہے ملیبار اب تک
آج ہمارا وطن تمام سہولیات اور کاروباری حلقوں کے ہونے کے باوجود بد حالی کی طرف کیوں جا رہا ہے اس کے عوامل مختلف ہو سکتے ہیں لیکن کیا ان میں سے ایک تجارتی جڑت اور کاروبار میں دیانت کا فقدان نہیں ہے۔یقیناََ ہے۔چنانچہ تاجر برادری کو وسیع تر قومی اور ملی مفاد میں میدانِ عمل میں آنا ہو گا۔اگر عزمِ صمیم ہو اور حوصلہ بلند ہو تو منزل صرف ملتی نہیں استقبال کرنے کو دوڑتی ہے۔ہمارے سامنے بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ کسی ایک فرد یا کچھ افراد نے عملِ پیہم اور جہدِ مسلسل سے بڑی بڑی مہمات سر کیں۔
2001 میں ایک آسٹریلوی حیاتیاتی سائنس دان جیمز ڈیل افریقہ کے تحقیقی دورے پر گیا۔وہاں انھوں نے دیکھا کہ وٹامن کی مناسب مقدار نہ ملنے کی وجہ سے بچے بینائی کھو رہےہیں اور تناسب دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔جیمز ایک انسان دوست شخص تھے۔انہوں نے سوچا کہ افریقہ کے لوگ بالخصوص بچے کیلا شوق سے کھاتے ہیں جس میں قدرتی طور پر وٹامن موجود ہیں لیکن جینیاتی عمل کے سہارے ایک سپر کیلا بھی تو Develop کیا جا سکتا ہے لیکن اس تحقیق کے لیے کروڑوں روپے درکار تھے۔جیمز نے Integration کا عمل شروع کیا ۔ایک فلاحی تنظیم بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاونڈیشن سے رابطہ کیا۔انہوں نے کچھ اور تنظیموں سے جڑت پیدا کی۔بالآخر جیمز کی کوشش رنگ لائی اور وہ سپر کیلا تخلیق کرنے میں کامیاب ہو گیا جس کے ذریعے وٹامن کی کمی کی وجہ سے بچوں کی بینائی کی کمزوری پر قابو پایا گیا۔
ہمار ے سامنے اسوہءِ حسنہ اپنی پوری تابناکیوں کے ساتھ موجود ہے۔کارباری حلقے باہمی معاونت سے چھوٹے بڑے اقتصادی منصوبوں کی بنیاد رکھ کر نہ صرف انفرادی طور پر خوشحال ہو سکتے ہیں بلکہ معاشرتی سطح پر فلاح و اصلاح کے تناظر میں مثبت اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ روح فورم تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کو رکنیت کی دعوت دیتا ہے۔
.
روح منزل تھرڈ فلور، ، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد 0335-7771005، 0515162023