آپ سب طلبا ء و طالبات کو یہ انگریزی کہاوت ضرور یاد ہو گی
(Man is known by the company he keeps)
مشرقی ادبیات میں ان نصائح کے حوالے سے شیخ سعدیؒ کا شعر خاص طور پر قابلِ ذکر ہے
صحبتِ صالح تُرا صالح کند
صحبتِ طالح تُرا طالح کند
اور
کند ہم جنس باہم جنس پرواز
کبوتر بہ کبوتر باز بہ باز
زمانہ اس بات پر گواہ ہے کہ انسانی سیرت کی تعمیر و تشکیل میں صحبت کو خاص دخل حاصل ہے۔سیدنا نوحؑ کا فرزند کنعان اللہ تبارک و تعالیٰ کے جلیل القدر اور اولی العزم رسول کا بیٹا تھا۔لیکن بری صحبت کی وجہ سے ھلاک ہوا۔سیدنا نوح ؑ اُن سے فرماتے رہے
يَا بُنَيَّ ارْكَبْ مَعَنَا وَلَا تَكُنْ مَعَ الْكَافِرِينَ
کہ اے میرے پیارے بچے ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں میں شامل نہ ره
لیکن اُس نے بری صحبت نہیں چھوڑی اور انجامِ کار اللہ کے غضب کا نشانہ بنا۔ابولہب محبوبِ پاک صاحبِ لولاک ؐ کا حقیقی چچا تھا لیکن اُس کی نشست و برخاست ابو جہل، ابو سفیان، عتبہ، شیب، ولید بن مغیرہ اور امیہ بن خلف جیسے نابکار لوگوں کے ساتھ تھی۔اُس کا انجام بھی افسوس ناک رہا۔علامہ اقبالؒ نے کیا خوب فرمایا ہے
وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسم شاہبازی
علامہ اقبالؒ نے فلسفہء صحبت کو ایک اثر انگیز مکتب کے طور پر بیان کیا ہے۔خاندان کے نجیب بزرگ مرد و خاتون کی صحبت، صالح رفقاء کی صحبت، وفادار ہمنشینوں کی صحبت، علمی مجالس میں شرکت، نیک اجتماع میں جلوس، کتب بینی کی عادت وغیرہ سب اس مکتب کے ارکان و اجزا ہیں جن کا اہتمام و التزام اسوہءِ حسنہ میں ضروری گردانا گیا ہے۔
اہلِ اللہ کی صحبت تو سیرت سازی میں شعارِ اعظم کی حیثیت رکھتی ہے۔بقول علامہ اقبالؒ
صحبتِ روشن دلاں یک دَم دو دَم
آں دو دَم سرمایہءِ بود و عدم
روحانی صحبت میں زمان و مکان matter نہیں کرتے۔مثلا ہم قرآنِ پاک سے صحبتِ فیض پا سکتے ہیں
إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا
رسول اللہ ؐ نے بھی قرآنِ مجید فرقانِ حمید کو مومن کا جلیس و مونس قرار دیا ہے۔
رسول اللہ ؐ کی ذاتِ با برکات زمان ومکان سے بالاتر ہے۔اللہ کی اذنِ خاص سے آپ کا فیض جاری ہوا۔جاری ہے اور جاری رہے گا۔قرآن مجید میں ارشادِ ربانی ہے
اَلنَّبِیُّ اَوْلیٰ بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ
آن حضورؐ کا روحانی فیض ہمیں ہر وقت، ہر جگہ میسر ہے۔آپؐ کی نگاہِ التفات سے دلِ شاد، دماغ کشاد، جسم متُسرح، روح متوجد اور جہان معطر ہو سکتا ہے۔بقول علامہ اقبالؒ
دلش نالد چرا نالد نداند
نگاھے یا رسولؐ اللہ نگاھے
اس طرح اہلِ بیت ِ اطہارؑ، ازواجِ ؑ رسول امھاتنا، اصحابِ ابرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اولیاءؒ کا مگارکی روحانی صحبت بھی ہمیں بطفیل رسول اللہؐ مہیا ہے۔
ان تمام تیَسُرات(Spiritual Comforts) کے علاوہ والدین کی صحبت بہترین متاع ہے۔والدین ہمیشہ بچوں کے خیر خواہ رہتے ہیں۔ان کی بھلائی کے خواہاں ہوتے ہیں،اس لیے ان کی صحبت اختیار کرنا ضروری ہے اور اُ ن کا کہا ماننا سعادت ہے۔
اساتذہ، وفادار اقارب، صالح دوست وہ ارکانِ معاشرہ ہیں جن کے ساتھ اعتدال و توازن اور ازراہِ ضرورت نشست و برخاست سے طبیعت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہ صحبتیں انسان کی سیرت سازی میں ممدو معاون ثابت ہو سکتی ہیں
مختصر یہ کہ کردار سازی میں صالح صحبت کا کردار نہایت اہم ہے اس لیے اس کا اہتمام ضروری ہے اور بری صحبت سے اجتناب لازم ہے
سرِ دینِ مصطفیٰؐ گویم تُرا
ھم بقبر اندر دعا گویم تُرا
.
روح منزل تھرڈ فلور، ، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد 0335-7771005، 0515162023