روح فورم کے زیرِ اہتمام ”اَلانفاق اور مواخات” “ کے حوالے سے فکری نشست کا انعقاد 7 جولائی 2018، ، بروز ہفتہ دن 11 بجے، روح منزل، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، اسلام آباد میں ہوا۔جس کا مقصد معاشرتی فلاح کے لیے اراکین کا ایسا گروپ تشکیل دینا تھا جو اپنی اپنی بساط کے مطابق عملی طور پر خدمات پیش کر سکیں۔مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات اور طلبہ و طالبات نے شرکت فرمائی ۔
نشست کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔
ابتدائی گفتگو میں محترم کرنل سید مرتضیٰ علی شاہ صاحب نے حاضرین ِ مجلس کی شرکت کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور روح فورم کا تعارف اور فکری نشست کے اغراض و مقاصد پیش کیے ۔
“خلاصہ”
اگر ہم سورۃ العصر کے مفہوم پر غور کریں تو چار پہلو اجاگر ہوتے ہیں۔
- کیا ہم ایمان کے تقاضوں پر پورا اتر رہے ہیں۔ اس بات کا جواب ہم نے اپنے اندر سے تلاش کرنا ہے
- صالح اعمال پر غور کریں تو ہمارے معاشرے سے اقدار ختم ہوتی جا رہی ہیں ۔اس سے قبل لوگ اقدارقائم رکھنے کے لیے امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے کام لیتے تھے۔اب مصلحت کے تحت لوگ خاموش ہیں
- حق کی بات کرنا ، ساتھ دینا اور کھڑے رہنے کی سب سے بڑی مثال معرکہ کربلا ہمارے سامنے ہے۔اس کی روشنی میں اگر دیکھیں تو ہر آدمی کو ایسے مواقع میسر ہیں کہ وہ حق کے ساتھ کس حد تک کھڑا ہو سکتا ہے۔
- اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔
اگر ہم ان چار عناصر کو اپنی ذات کا حصہ بناتے ہیں تو کامیابی کی طرف گامزن ہو ں گے ورنہ اللہ تعالیٰ نے زمانے کی قسم کھا کر کہا ہے کہ انسان خسارے میں ہے۔
کوئی بھی دور خراب نہیں ہوتا ۔ہر انسان کے اعمال اپنے دور کے حالات کی روشنی میں پرکھے جائیں گے۔لوگ مقصدِ حیات سے لا علم ہیں۔غربت اور نا امیدی سے بہت سی سماجی برائیاں پھیل رہی ہیں۔تمام مسائل کے حل کے لیے ہمیں اسوہءِ حسنہ کے احیاء، مواخات کے فروغ اور فکرِ اقبالؒ کی ترویج کے لیے متحد ہو کر عملی کاوشیں کرنا ہوں گی۔انفاق کے نظام سے بہتر نتائج کے حصول کے لیے مواخات کی ضرورت ہے۔
اس کے بعد محترم علامہ زید گل خٹک صاحب نے انفاق اور مواخات کی موضو ع پر روشنی ڈالی۔
“خلاصہ”
جدید سماجیات، عمرانیات، سوکس(Civics) میں دیکھ لیں، ہر حق کے ساتھ ایک فرض وابستہ ہے اور ہر فرض کے ساتھ ایک حق وابستہ ہے۔حضرت ابنِ نجار ؒ اپنے رسالہ میں لکھتے ہیں کہ انفاق کے ساتھ فی سبیل اللہ کی قید لگائی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انفاق کا نظام منضبط (Systematic) اور ثمر آور ہونا چاہیے ۔اسلام کے نظامِ زکوۃ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رمضان المبارک میں کوئی ضرورت مند آپ کے دروازے پر حاضر ہو۔آپ اس کو پیسے دیں اور اگلے سال وہ پھر آ جائے۔اسلام کا نظامِ زکوۃ یہ ہے کہ زکوۃ کے اس انفاق کو اتنا موثر بنایا جائے کہ وہ ضرورت مند خود کفیل ہو جائےاور دوبارہ دروازے پر نہ آئے ۔خلفائے راشدین کے دور میں یہ نظام قائم رہا۔ انفاق ایک پروگرام ہے جسے مواخات کے نظام کے تحت موثر بنایا جاتا ہے اور اس کا نتیجہ اسوہءِ حسنہ کا احیاء ہے ۔اگر ہم انفاق کے نظریہ پر متفق ہو کر آگے بڑھیں تو ایک مستقل ادارے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جہاں Rational Thinking کے ساتھ تمام امور سر انجام دیے جا سکتے ہیں۔ہمیں ایسے اداروں کی معاونت کرنی چاہیے جہاں اجتماعی فلاح کے فروغ کے لیے لوگ برسرِ عمل ہیں۔اگر اسلامی ادوار کا تجزیہ کیا جائے تو نظر آئے گا کہ انفاق کو مواخات کے ذریعے موثر بنایا گیا۔
۔
اس کے بعد تمام شرکاء نے پر تاثر گفتگو کی جس سے مندرجہ ذیل نکات اخذ کیے گئے
- نظام ِ عدل کے متاثر ہونے سے شدت پسندی پیدا ہوتی ہے۔
- مدرسوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں اسلامی تعلیمات کے حقیقی نقوش معدوم ہوتے جا رہے ہیں
- بچوں میں انفاق کا جذبہ بیدار کر کے گھریلو سطح پر بھی فلاحی اداروں کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔
- ہمارے پاس منصوبہ بندی ہے مگر عملی کاوشوں کی کمی ہے۔
- انفاق کے نظام کو موثر بنانے کے لیے مواخات کی ضرورت ہے۔
سید مرتضی علی شاہ صاحب نے گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ تمام احباب ایسے لوگوں کو متعارف کروائیں جو اسوہءِ حسنہ کے احیاء اور مواخات کے جذبہ سے سرشار ہو کر معاشرتی فلاح کے لیے دوسرےلوگوں کو متحرک کریں۔ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مدار(Orbit) کو پھیلائیں اور فلاحی، تعلیمی و اقتصادی ترقی کے لیے ایک دوسروں کی معاونت کریں۔جو لوگ Employment Based Education دینے کے اہل ہیں وہ فورم کے ساتھ منسلک ہو کر مشترکہ وسائل بروئے کار لا سکتےہیں۔
۔
پیغام
تعلیمی، معاشرتی اور اقتصادی مسائل کے حل کےلیے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔روح فورم الانفاق بینک کی بنیاد رکھنے کے سلسلے میں تمام اداروں کے سربراہان اور خواہشمند خواتین و حضرات کو رکنیت کی دعوت دیتا ہے

روح منزل تھرڈ فلور، ، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد 0335-7771005، 0515162023