” اسلام کا نظام ِ انفاق اور اس کے دور رس اثرات “

بنیادی طور پر دستورِ اسلام کی بنیاد دو چیزوں پر ہے

  1. قرآن
  2. سنت

اصولی طور پر اہلِ بیت ِ اطہار، صحابہ ؓ و تابعین، سلفِ صالحین کے آثار اور اقوال سنتِ رسولؐ کی ہی عکاسی کرتے ہیں۔اجماع اور اجتہاد و قیاس بھی قرآن و سنت  کے قوانین کی توسیع  کرنےوالی شاخیں ہیں۔اسلامی عبادات میں ایک اہم مالی عبادت “انفاق” ہے۔اس کا اطلاق ہر مسلمان مرد اور عورت پر اس کی استطاعت کے مطابق ہوتا ہے۔حتیٰ کہ غیر مسلم شہری بھی “جزیہ” کے تحت اس عمل میں شریک ہیں۔جزیہ  جبر کے تحت مال خرچ کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ معاشرتی بہبود کے لیے غیر مسلم شہریوں کی مالی معاونت (Contribution)  ہے۔کیونکہ فلاح و رفاہ کی برکات پر بحیثیت انسان ان کا بھی حق ہے۔ہمارے متاخرین ِ فقہ (بعد میں آنے والے فقہاء) کے نزدیک جزیہ کو فتوحات سے منسلک کر کے ایک جبری ٹیکس کے طور پر متعارف کرا یا گیا۔ایسے تاثرات پر علامہ اقبالؒ نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح سے فرمایا

قال را  بگزار و بابِ حال زن

نورِ حق بر ظلمتِ اعمال زن

(فقہی نکتہ چینیوں سے نکل آو اور حال کا دروازہ کھٹکھٹاو۔ظلمتِ اعمال کو نورِ حق سے روشنیوں میں بدل دو)

انفاق کا نظام کھجور کی گٹھلی سے شروع ہو کر اس کمالِ ایثار تک پہنچتا ہے  کہ ابوبکر صدیقؓ  اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر دیتے ہیں۔آپؓ کا  مکہ کے امیر ترین تاجروں میں شمار ہوتا تھا ۔اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے یہ عالم تھا کہ غزوہ تبوک کے موقع پر آپؓ نے اپنے گھر کا سارا اثاثہ لاکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ’’ابوبکر! اہل و عیال کے لیے کچھ چھوڑا؟‘‘ فرمایا ’’ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول ؐکو چھوڑ آیا ہوں۔ ابو ذر ؓ اپنے دوسرے وقت کا راشن اپنے پاس رکھنا حرام جانتے ہیں۔

 فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ ط  لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (المعراج 24-25)

“اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔مانگنے والے کا اور نہ مانگنے والے کا

اس نظام ِ انفاق میں فقہ کے تحت تو شاید آغاز زکوۃ سے ہوتا ہے لیکن تصوف میں اُس ایک گھونٹ پانی سے ہوتا ہے جس کی شدت سے خود کو طلب ہو۔صحابہءِ اکرام اور اولیاءِ اکرام تو اپنی ضرورت کی چیزیں بھی دوسروں کے لیے قربان کیا کرتے تھے۔معاشرے کا ہر فرد اپنی استطاعت کے مطابق  انفاق فی سبیل اللہ کے عمل میں شریک ہوتا ہے۔رسول اللہ ؐ نے  عسرت کی مہم میں رات بھر یہودی کے باغ میں مزدوری کرنے والے صحابی سیدنا اسعد بن زارہؓ سے  مٹھی بھر کھجوروں کا انفاق  پورے اہتمام کے ساتھ قبول فرما لیا تھا۔اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اللہ کی راہ میں کم سے کم مال بھی خرچ کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرنی چاہیے۔

سورۃ آلِ عمران ، آیت نمبر 134-133 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے

 وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ0 الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ

(دوڑ کر چلو اُ س راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ اُن خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بد حال ہوں یا خوش حال، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں)

 

موجودہ دور میں زکوۃ و خیرات  کا نظام جن بنیادوں پر استوار ہے  اس سے اجرو ثواب تو حاصل ہو جاتا ہے  مگر  اس نظام کے جو مقاصد ہیں وہ حاصل نہیں کیے جا سکتے۔مثال کے طور پر  قرآن و سنت کے مطابق زکوۃ و خیرات اس لیے فرض کی گئی تا کہ معاشی توازن برقرار رہ سکے۔خوشحالی و استحکام کا دور دورہ ہو اور غربت و افلاس ختم ہو جائے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زکوۃ و خیرات دینے کے باوجود کیا ہم ان مقاصد کے حصول میں کامیاب نظر آتے ہیں۔یقیناً جواب نفی میں ہے۔ بلکہ  تنگدستی بڑھنے کی وجہ سے اعلیٰ معاشرتی و اخلاقی اقدار بھی متاثر ہو رہی  ہیں۔

قرآنِ عظیم نے زکوۃ و خیرات، صدقات ، انفاق اور فلاح ِ معاشرہ کے تمام  زرائع کو موثر اور مفید بنانے کے لیے عمدہ فکر و عمل پر مشتمل ایسا   System   متعارف کروایا ہے جس کو تین  حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے

  • غارمین(Integrator)
  • عاملین (Executive Body)
  • حاصرین(Volunteers)

غارمین سے مراد وہ جماعت ہے جو انتظامی و انصرامی بنیادوں پر زکوۃ و صدقات کی رقم کو اہلِ خیر سے وصول و جمع کرتے  ہیں۔یہ جماعت معاشرے کی مختلف اکائیوں کو باہم مربوط کر کے  زکوۃ و خیرات کے مصارف سے روشناس  کرواتی ہے اور   مثبت طریقے سے اس فریضے کی ادائیگی میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ کیونکہ یہ لوگ کاروبار و تجارت اور ذریعہ ءِ معاش کو ترک کر کے   اپنا سارا وقت  اور تونائی   کو اسی کام کے لیے بروئے کار لاتے ہیں  اس لیے حاصل شدہ رقم  کا کچھ حصہ اپنی ضروریات کو پوری کرنے کے لیے شرعاً خرچ کر سکتے ہیں۔

عاملین  سے مراد وہ لوگ ہیں جو جمع شدہ رقم سے فلاحی منصوبہ کی تشکیل کر کے عمل درآمد کرواتے ہیں۔اسے مجلسِ عاملہ یا Executive Body کہتے ہیں۔ان کا انتخاب غارمین میں سے ہوتا ہے کیونکہ ابتدائی مراحل سے گزرتے ہوئے ان کے تجربات اور معاشرتی ضروریات کے حوالے سے  ان  کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔

حاصرین (Volunteers) سے مراد وہ وقف احباب ہیں جو   فلاہی و اصلاحی منصوبوں کو پایہءِ تکمیل تک پہنچانے کے لیے مستقل طور پر اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ان کی ضروریات بھی جمع شدہ رقم سے پوری کی جا سکتی ہیں۔

 علامہ اقبالؒ نے اسی طرف معنی خیز اشارہ فرمایا ہے۔

اندیشہ ہوا شوخی افکار پہ مجبور
فرسودہ طریقوں سے زمانہ ہوا بیزار
انساں کی ہوس نے جنھیں رکھا تھا چھپا کر
کھلتے نظر آتے ہیں بتدریج وہ اسرار
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اﷲ کرے تجھ کو عطا جدّت کردار
جو حرف ’قُلِ العَفو‘ میں پوشیدہ ہے اب تک
اس دور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودار!
اگر ہم دیانت و صداقت کے ساتھ  قرآنِ عظیم کے فلسفہءِ انفاق کی روشنی میں اس System   کو منظم کریں تو معاشرے میں سماجی اور  اقتصادی خوشحالی کے باب کھول سکتے ہیں اور تربیتی، تعلیمی، رفاہی ، فلاحی اداروں کے جال بچھا سکتے ہیں

ruh-cont

RUH Manzil, Rauf Tower, 3rd Floor, DHA 2, ISLAMABAD

03357771005

051-5162023