مسلمانوں کے زوال کے اسباب اور مسائل کا حل

جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں
بے یدبیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں
عصرِحاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبرؐ کہیں

(اقبالؒ)

                مسلمانوں کے زوال کی وجوہات بیان کرنے سے پہلے ہمیں ان دو باتو ں  کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے

  • مسلمانوں کا زوال اسلام کا زوال نہیں
  • مسلمانوں کے زوال کا تعلق اقدار(Values) سے ہیں۔یعنی جب مسلمان اعلیٰ اقدار کے حامل تھے تب عروج پر تھے اور جب وہ اقدار  پامال ہونا شروع ہوئیں تو وہ زوال کا شکار ہوئے۔

                پہلے نکتہ سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے  کہ اسلام کسی تمدنی فلسفہ یا علاقائی سطح تک محدود نہیں۔عرب کے لوگوں نے جب خلافتِ راشدہ کے بعد سیاسی سطح پر اس سےانحراف کیا تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ اسلام ختم ہو گیا۔عجم کے لوگوں نے فنونِ لطیفہ کے حوالے سے اس میں غیر حقیقی  چیزوں کو شامل کیا تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ  اسلام کا تہذیبی رنگ گدلا گیا۔مشرق کے لوگوں  نے  مقامی رسومات کو  اعتقادات کا حصہ بنا لیا تو اسلام کا اصولیاتی نظام ناقابلِ اخذ ہو گیا۔ایسا ہر گز نہیں۔

علامہ اقبال نے ؒ عمدہ پیرائے میں اس بات کا اظہار کیا ہے

“خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی”

                اسلام دراصل کائنات کے لیے اللہ کا منشور ہے اور دنیوی اور اخروی فلاح کے لیے نظامِ الہیٰ ہے۔حضرت آدم ؑ سے لے کر جتنے بھی انبیاؑ آئے اس منشور کی تکمیل اور رسول اللہ ؐ پر اس منشور کی اکملیت ہو گئی۔اس کے بعد روز ِ حشر تک کسی منشورکو نہیں آنا۔احکامات الہیٰ ناقابلِ تبدیل ہیں۔ہاں اس میں اجماع اور اجتہاد کی گنجائش رکھی گئی ہے تا کہ کوئی بھی مسئلہ درپیش ہونے کے بعد  لوگ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کسی نتیجہ پر پہنچ پائیں۔اس گنجائش کی وجہ یہ ہے کہ معاشرتی اور اقتصادی  تبدیلیاں ہر دور میں ہوتی رہیں گی جن کے ساتھ ضروریات ِ زندگی اور مسائل کی نوعیت بھی تبدیل ہوتی رہے گی۔اس بات کو ہم اس مثال سے سمجھ سکتے ہیں

کہ زرعی دور کا مفسر صنعتی دور کی Required Values  پر گفتگو نہیں کر سکے گا۔وہ بتا دے گا کہ گندم کے دانا کو آٹا بنا کر کھانا حلال ہے اور اس کی Expansions  کہاں تک ہیں لیکن وہ کھاد پر رائے دینے سے قطاً قاصر ہو گا ۔گوبر ڈالنے سے  زمین زرخیز ہوتی ہے اس پر تو وہ بات کر لے گا اور Justify   کر دے گا کہ گوبر اگرچہ حرام ہے لیکن اس کا خارجی  تعمیراتی اثر دانے کو حرام نہیں کرتا۔لیکن کھاد کے استعمال سے جو دانے کی غذائیت اور جزئیت پر اثر پڑتا ہے اس حوالے سے مفید جائزہ صرف آج کا مفسر لے سکتا ہے۔

مسلمانوں کا زوال فکری سطح پر اسلامی طرزِ فکر چھوڑنے یا اسلامی احکامات کو عملی شکل دینے میں سسُتی برتنے سے ہوا۔

                دو اقدار قابلِ الزکر ہیں جن کو چھوڑنے سے مسلمان زوال کا شکار ہوئے۔

  • خُلقِ عمومی
  • ارتقاء

خُلقِ عمومی سے مراد داخلی اور خارجی نظام کی پائیداری ہے۔نظام سے مراد عدل، مساوات اور احسن رویہ ہے۔یہ تین قدریں دور ِ نبوی ؐ میں عروج پر تھیں اور صحابہ و تابعین کے دور میں بھی کسی حد تک   ان قدروں کو قائم رکھا گیا لیکن بعد میں آہستہ آہستہ یہ قدریں پائمال ہونا شروع ہو گئیں۔

حضرت عثمانؓ کے دور میں عبد اللہ بن ابی صرح اموی ایران کا گورنر نامزد ہو کر جب سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سے چارج لینے آیا تو  آپؓ نے فرمایا

“نہیں معلوم تم ہمارے ہمارے پیچھے رہ کر زیادہ سمجھدار ہو گئے کہ ہم یہاں  آ کر بے وقوف ہو گئے”

جواب میں ابن ابی صرح نے کہا

“ابو اسحق   ! یہ تو بادشاہی ہے۔کبھی کوئی اس کے مزے لیتا ہے کبھی کوئی”

یہ بات سن کر حضرت سعدؓ آبدیدہ ہوئے اور فرمایا

“اے نامرادو ! مجھے معلوم تھا تم اٰل ابن ابی معیط اس کو بادشاہی بنا کر چھوڑو گے۔اب ایران ہمارے ہاتھوں سے گیا”

اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے جان لیا کہ اب انصاف کی قدر گر جائے گی تب تعصب کے جذبات پیدا ہونگے اور تصادم کی فضا بنے گی۔تصادم کی فضا میں معاشرے زوال کی طرف بڑھنے لگتے ہیں

الغرض خُلقِ عمومی چھوڑ دینے سے معاشرے کا فاتحانہ اور قائدانہ تصور  ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔قومیں رعب اوردبدبہ سے نہیں بنتیں بلکہ اعلیٰ اخلاقی و معاشرتی اقدار سے پروان چڑھتی ہیں۔حکومتی سطح پر عدل ِ اجتماعی کی قدر ترک کرنے سے  مسلمان عالمی قیادت سے محروم ہو گئے۔

مسلم معاشرے میں تیزی سے زوال پزیری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گرتی ہوئی اقدار اور بگڑتی ہوئی تہذیب کوایسے لوگوں نے بھی سنوارنے کی کوشش نہیں کی جو دینی علوم تو جانتے تھے مگر تاویل سے کام لے کر حقیقی نظریات کو پسِ پشت ڈال دیتے تھے۔غلام لونڈی کا تصور، مالِ غنیمت کا تصور ، ذمی کا تصورمعاشرے میں  جڑ پکڑنے لگا حالانکہ اسلام نے مساویانہ شہریت، عزتِ نفس اور خُلقِ خدا کی فلاح کی قدر عطا فرمائی ہے۔سرمایہ دارانہ نظام ِ معاشرت اور  فکری سطح پر اپنی من مانی کرنے والوں نے اسلامی نظریات کو بہت نقصان پہنچایا جس کی وجہ سے فکری زوال کا عمل تیز ہو گیا۔حضرت امام حسینؓ کے ساتھ بہتر مجاہدینِ اسلام نے فکری زوال کو روکنے کی خاطر قربانیاں دیں۔

  مادیت پسندی نے بھی مسلمانوں کو زوال کی طرف دھکیلا۔

الغرض فکری زوال کے بعد Sustaining  کا واحد ذریعہ عسکریت اور مادیت تھی۔جو پائدار زریعہ نہیں ہے بلکہ کمزور طرزِ عمل ہے ۔چونکہ یہ ذریعہ مخالفت اور مقابلہ کی زد میں ہوتا ہے اور آخر ِ کار  شکست خوردہ ہو جاتا ہے۔

ہم نے دیکھا کہ خُلقِ عمومی کو کن عوامل کی وجہ سے نقصان پہنچا۔اگلا جزوی ستون ارتقا کا مزاج  Follow  نہ کرنے کی وجہ سے ہوا۔جن لوگوں نے ارتقاء کے لیے جدو جہد کی ، ان کے نظریات کو نہ صرف پسِ پشت ڈالا گیا بلکہ ان پر طرح طرح کے الزامات بھی لگائے گئے۔ابنِ ھیشم ؒ، ابن ماجہؒ، ابن طینؒ، ابنِ سیناؒ، فارابیؒ، یعقوبیؒ، نسائیؒ، مسکویہؒ، ابنِ عربیؒ، ابن ِ رشیدؒ، جیسے جدت پسند سائنسدانوں کی فکر کو بھی قدامت پسند لوگوں نے سمجھنے سے انکار کر دیا۔مسلم معاشرہ سائنسی دور میں ارتقا کی منازل طے نہ کر سکا اور یوں یورپی اقوام مسلمانوں کو مادی  اور عسکری میدان میں شکست دے کر عالمی افق پر نمودار ہو گئیں۔یاد رہے کہ مغربی اقوام غالب تو ہو گئے مگر خُلق ِ عمومی(مراد عدل، مساوات اور احسن رویہ) سے محروم ہیں۔یہی وہ طاقت ہے جس کے بل بوتے پر مسلمان قیادت کا منصب دوبارہ سنبھال سکتے ہیں مگر اس کا واحد راستہ اسوہءِ حسنہ پر عمل پیرا ہونا ہے۔

ruh-cont

RUH Manzil, Rauf Tower, 3rd Floor, DHA 2, ISLAMABAD

03357771005

051-5162023