رپورٹ: فہمِ اقبالؒ کی روشنی میں مسلمان کے عناصرِ  کردار(4 مارچ 2017)

روح فورم کا سلسلہ وار تربیتی و تعلیمی لیکچر بعنوان ” فہمِ اقبالؒ کی روشنی میں مسلمان کے عناصرِ کردار ” 4 مارچ 2017 بروز ہفتہ دن 11 بجے، روح منزل، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔  مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات اور طلبہ و طالبات نے شرکت فرمائی۔

پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلام ِ پاک سے ہوا۔ برگیڈیئر منیر نے استقبالیہ کلمات کے بعد    حاضرین ِ مجلس کی شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر تسلسل کے ساتھ احباب آتے رہیں گے تو یہ سلسلہ بڑھتا چلا جائے گا اور ہم  کردار سازی کے ساتھ ساتھ   تعلیمی، معاشی، معاشرتی اور اقتصادی خوشحالی کے لیے اہم اقدامات اٹھا سکیں گے۔اس کے بعد حاضرین ِ مجلس کو علامہ اقبال ؒ کی غزل کی ویڈیو ریکارڈنگ سنائی گئی۔

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن

گفتار میں، کردار میں، اﷲ کی برہان

  کرنل سید مرتضی ٰ علی شاہ نے روح فورم کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل ہمارے بنائے ہوئے راستوں پر نہیں چلنا چاہتی۔انھیں ملٹی نیشنل میں زیادہ آسانی نظر آتی ہے۔ہمیں اپنی شناخت اور سمت کا اندازہ نہیں ہو رہا۔ہمارے دین کو بانٹ دیا گیا ہے ۔معاشرے میں دین ، دنیا، حکومت، اساتذہ اور والدین سے ناامیدی پھیل چکی ہے۔روح فورم کی Driving Motivation  ہے کہ Origen کی طرف جایا جائے جس کے لیے Integration کی ضرورت ہے۔ہر ہفتے ہم تیس چالیس لوگ اکھٹے ہوتے ہیں۔اگر یہی لوگ ایک ایک چھوٹا کام اپنے ذمہ لے لیں تو یقیناً ہم اسوہءِ رسول کے سفیر بن سکتے ہیں۔قرآن ِ عظیم نے رسول اللہ ؐ کو رول ماڈل قرار  دیا ہے۔ ہمیں بل گیڈز  اور سٹیو جابس میں رول ماڈل تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔روح فورم مواخاتِ مدینہ کے تصور سے Integration کرنا چاہتا ہے  تا کہ معاشرے کے نچلے طبقوں کی بہتری کے لیے اہم  اقدامات اٹھائے جا سکیں اور عملی طور پر تعلیمی، معاشی، اقتصادی تبدیلی کی بات کر سکیں۔یہ تب ممکن ہے جب ہم سب اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ہم نے دین  کو دنیا سے الگ کر رکھا ہے مگر ایسا نہیں ہے۔دنیا اخروی منزل کو پانے کے لیے ایک امتحان ہے اور اس امتحان میں کامیابی کے لیے اسوہءِ رسولؐ کی پیروی ضروری ہے۔روح فورم کا محرک فکرِ اقبالؒ کی روشنی میں اسوہءِ حسنہ کا احیا ء ہے۔اس کے بعد زید گل خٹک صاحب کو لیکچر کی دعوت دی۔

لیکچر کا آغاز کرتے ہوئے زید گل خٹک صاحب نے  اقبال ؒ کے   شعر کی روشنی میں کردار کے   عناصر پر روشنی ڈالی جو کہ مسلمان کے لیے ضروری ہیں۔

قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت

یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

قھار اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے جس کا مطلب ہے غلبہ پانے والا۔حکیم الامت نے قہاری سے Inspiration  لی ہے۔بعض چیزیں توازن میں نہ رہیں تو معاشرے کا نقصان ہو سکتا ہے اس لیے تذکیہ اور اپنے اوپر ضبط پانا ضروری ہے۔ اقبالؒ نے قہاری کو  کردار کا پہلاعنصر  قرار دیا ہے  ۔ یہ داخلی صفت ہے۔جب انسان اپنی کردار سازی کے بعد معاشرے میں نکلتا ہے تو اسے اجتماعیت میں پرونا ہوتا ہے۔ضروری نہیں کہ جو کچھ اس کے ساتھ پیش آئے وہ اس کے رجحان اور طبیعت کے مطابق ہو۔بعض رویے اچھی طرح سے اثرانداز ہوتے ہیں اور بعض اچھی طرح سے نہیں ہوتے۔لیکن چونکہ وہ اپنے آپ پر غلبہ پانے کے مرحلے سے کامیاب گزر چکا ہے اس لیے وہ میانہ روی سے کام لے گا اور تصادم سے بچے گا۔دوسروں کی رائے کا احترام کرے گا اور کسی کو تکلیف نہیں پہنچائے گا۔اس کے بعد قدوسی کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔قدوس اللہ کے ناموں میں سے ایک نام اور صفت ہے۔قدوس قدَّسَ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے قائم  و دائم۔یعنی اللہ تعالیٰ کے صفات ہمیشہ رہنے والی ہیں۔جب مسلمان قہاری و غفاری کی صفات حاصل کر لیتا ہے تو تیسرے مرحلے میں اسے ان صفات کو قائم رکھنا ہوتا ہے۔ جب یہ تین عناصر پیدا ہو جاتے ہیں تو اہلیت مکمل ہو جاتی ہے۔یعنی وہ میرٹ پر پورا اترتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے خلافت سے نوازتا ہے۔اقبالؒ نے اسی کو جبروت کہا ہےاور وہ خلافت کے بعد بھی ان صفات کو قائم رکھتا ہے۔اگر فرد ہو گا تو انفرادی طور پر معاشرہ اس کی ذات سے فیض یاب ہو گا اور اگر ایسے بہت سے لوگ اکھٹے ہو جائیں گے تو  ایسا صالح معاشرہ قائم ہو گا جو بہبودِ انسانی کا کام کرے گا ۔

 محترم نوید  ظفر نے لیکچر کے تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے کہا کہ اقبالؒ کو ہم بحیثیت ایک فلسفی جانتے ہیں اور ان کے نظریات سے پوری طرح آگاہ نہیں ۔انھوں نے مختصر انداز میں عشق، عقل، روح اور کئی اصطلاحات پر روشنی ڈالی۔

اس کے بعد سوال و جواب کا سیشن شروع ہوا اور شرکاء کی پر اثر گفتگو سے مندرجہ ذیل نکات اخذ کیے گئے

  • والدین اور اساتذہ کو اپنی اپنی استطاعت کے مطابق نئ نسل کی تربیت کرنی چاہیے۔
  • اقبال ؒ کی شاعری سے Confidence کا پیغام ملتا ہے۔نئی نسل میں خود اعتمادی کی کمی ہے اس لیے انھیں فکرِ اقبالؒ سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے۔
  • ہمارے نصاب میں اسلامی شخصیات کا تعارف شامل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل تاریخ ِ اسلام سے آگاہ ہو سکیں۔
  • دنیا میں بہت سی تہذیبوں نے جنم لیا مگر اسلامی تہذیب ہی نے آخر تک قائم رہنا ہے لیکن یہ تب ممکن ہو گا کہ جب ہر فرد اپنا اپنا کردار ادا کرے گا۔

آخر میں گفتگو سمیٹتے ہوئے جنرل حمید الدین نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ  اس وقت بحیثیت ایک قوم ہم  مایوسی کا شکار ہیں۔فورم یہ چاہتا ہے کہ اس کا حل تلاش کر کے امید اور خوشحالی کے راستے ہموار کیے جائیں۔آج ہم نے سیکھا کہ قہاری سے ابتدا ہوتی ہے اور جبروت کے مقام تک پہنچنے کے لیے مختلف مراحل طے کرنے ہوتے ہیں۔ہمیں ابتدا کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ غلبہ پانے کے لیے ہتھیار تیار رکھو۔موجودہ دور میں ہمارے پاس ہر چیزہے مگر غلبہ پانے کے لیے کردار کا غلبہ ضروری ہے۔ہم میں  سیرت و کردار کا غلبہ ہونا چاہیے۔تجارت کریں تو صداقت و امانت کا غلبہ ہونا چاہیے۔آج ہم سب چاہتے ہیں کہ تبدیلی آئے مگر تبدیلی سب سے پہلے اپنے آپ سے شروع ہوتی ہے۔ہم نے دین کو تسلیم کر لیا ہے   اگر ہم تسلیم کرنے کے بعد اسے عملی زندگی میں نہیں اپنائیں گے تو مایوسی پھیلے گی۔گوئنٹے نے مردِ کامل کی تعریف کر کے اس کی جذیات پیش کیں اور دوسری طرف اقبالؒ نے   مردِ مومن کا تصور  پیش کیا  ۔رسول ؐ کی تریسٹھ سالہ زندگی ہمارے لیے عملی نمونہ ہے۔صلاحیتیں سب میں موجود ہیں صرف انھیں نکھارنے کی ضرورت ہے۔تمام احباب سے گزارش ہے کہ فیملی سمیت تشریف لائیں اور اس سلسلے کو آگے بڑھائیں۔

شرکاء کے نام

زید گل خٹک، جنرل حمید الدین،جنرل ساجد اقبال، جنرل نیاز کوثر، ،  سید مرتضی علی شاہ، برگیڈئیر منیر،  اسکارڈن لیڈر عارف ،کرنل شہزاد انور بھٹی،  عمر شہزاد، محمود حسین شاہ، زاہد عارف ملک، محترمہ سنان احمد،  عمر خالد، ، مشتاق احمد حسن، محمد فرخ، عبدالقادر شیخ،  خالد منیر،محمد وقار، محترمہ نمشین وسیم، محترمہ طاہرہ کن شیخ، محترمہ عمیرہ فاروق، محترمہ سیدہ حالہ بخاری، محترمہ لیفٹینٹ کرنل عظمیٰ

پیغام

بحیثیت امتِ مسلمہ ہمیں موجودہ مسائل کو حل کرنے کے لیے تمام نظریاتی اختلافات کو ختم کر کے  متحد ہونے کی ضرورت ہے۔روح فورم نے ممبر شپ کا سلسلہ شروع کیا ہے۔تمام احباب سے گزارش ہے کہ وہ فورم کی ممبر شپ حاصل کریں تا کہ  تعلیمی، معاشی، معاشرتی ، فلاحی اور اقتصادی شعبوں میں بہتری لانے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جا سکیں۔

Slide9