رپورٹ: علامہ اقبالؒ کا تصورِ خودی(11 فروری 2017)

روح فورم کا سلسلہ وار تربیتی و تعلیمی لیکچر بعنوان “علامہ اقبالؒ کا تصورِ خودی” 11 فروری 2017 بروز ہفتہ دن 11 بجے، روح منزل، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔  مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات اور طلبہ و طالبات نے شرکت فرمائی۔

کرنل مرتضی علی شاہ نے استقبالیہ جملوں کے بعد گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے روح فورم کے قیام کے مقصد اور سلسلہ وار لیکچرز کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور ایڈوائزر روح فورم زید گل خٹک اور صاحبِ صدر جنرل حمید الدین کا تعارف کروایا۔زید گل خٹک صاحب کو دعوتِ کلام  دینے کے بعد لیکچر کا آغاز ہوا جس کے اختتام پر سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا اور آخر میں  صدرِ محفل جنرل حمید الدین نے گفتگو سمیٹتے ہوئے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔گفتگو کا خلاصہ یوں ہے۔

ہمیں معلوم نہیں کہ ہمارا مقصد اور شناخت کیا ہے۔ اللہ کے بارگاہ میں ہر شخص سے اس کی ذمہ داریوں کی بابت سوال کیے جائیں گے اس لیے ہمیں انفرادی طور پر اپنا  کردار ادا کرنا چاہیے۔اسوہءِ حسنہ کی روشنی میں موجودہ مسائل  حل کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا ہونا ضروری ہے ۔حضورؐ کی ذاتِ مبارکہ ہمارے لیے Role Model  ہے اور اسوہءِ حسنہ سے سے زیادہ آسان راستہ اور کوئی نہیں۔   فکرِ اقبالؒ کی روشنی میں اسوہءِ حسنہ کی عملی ترویج کے لیے مواخاتِ مدینہ کی طرز پر روح فورم کی بنیاد رکھی گئی تا کہ سب متحد ہو کر معاشرتی، سماجی، تعلیمی اور اقتصادی خوشحالی کے لیے اہم اقدامات اٹھا سکیں۔بچوں کی کردار سازی میں والدین اور اساتذہ کا اہم کردار ہوتا ہے۔انھیں چاہیے کہ اپنے مقام اور مرتبہ کا احساس کرتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دیں۔

اس وقت بہت سی این جی اوز جو خواتین کی   Empowerment   کے لیے متحرک ہیں وہ اسلامی تہذیب و تمدن پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں ۔اگر ہم اپنے بچپن پر نظر دوڑائیں تو گھریلو خواتین بااختیار اور سلیقہ شعار ہونے کے ساتھ ساتھ پاکیزہ کردار  بھی رکھتی تھیں۔ مگر اب میڈیا اور کلچر کے ذریعے بےحیائی پھیل رہی ہے اور فلاحی اداروں کی آڑ میں بھکاری پیدا ہو رہے ہیں۔

 ہمیں چاہیے کہ ذہنی رجحان کو تبدیل کر کے لوگوں کو کاروبار کی طرف راغب کریں تا کہ نوکری نہ ملنے کی صورت میں نوجوان اور دیگر افراد معاشرے میں فعال کردار ادا کر سکیں۔کاروبار و تجارت سے جو سرمایہ ہمارے پاس آتا ہے اس سے تعلیمی اور فلاحی اداروں کی بنیاد رکھ کر قومی اور ملی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ہم اسوہءِ حسنہ کی سفارت کاری کر سکتے ہیں مگر اس کے لیے Integration  کی ضرورت ہے۔تبدیلی کے لیے طویل جدو جہد کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر ہم آج کی نسل کی ذہنی اور فکری تربیت کریں گے تو نتائج پندرہ سال بعد سامنے آئیں گے۔ہمیں پرائمری ایجوکیشن پر توجہ دینی چاہیے ۔فورم نے آئڈیا کلب کی بنیاد رکھی ہے اور نوجوانوں کو  دعوت دیتا ہے کہ اپنا آئیڈیا رجسٹر کروا کےنئے منصوبوں کو تشکیل دیں۔انھیں مشترکہ کاوشوں سے پایہءِ تکمیل تک پہنچایا جائے۔

اس کے بعد حاضرین ِ مجلس کو شفقت امانت علی خان کی آواز میں اقبالؒ کی  یہ غزل سنائی گئی۔

خودی کا سرِ نہاں لا الہٰ الا اللہ
خودی ہے تیغ، فساں لا الہٰ الا اللہ

زید گل خٹک نے  اقبال ؒ کے تصورِ خودی پر لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ خودی کو سمجھنے کا راز کلمہ طیبہ ہے۔توحید پر کامل ایمان لانے سے خودی کے اوصاف   پیدا ہوتے ہیں ۔توحید کا تقاضا ہے کہ اللہ کی صفات  کی عملی اتباع کی جائے۔خودی  کا آغاز اپنی پہچان یعنی مقصدِ حیات سے ہوتا ہے۔جب انسان زندگی کا مقصد سمجھ جاتا ہے تو  اس کا عمل و کردار کی سمت متعین ہو جاتی ہے اور وہ خودی کے مراحل طے کرتے ہوئے اللہ کی ذات کو پانے کی جستجو میں مصروف ہو جاتا ہے۔ابوجہل نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ میں مانتا ہوں کہ اللہ کے رسول ؐ صادق اور امین ہیں۔مگر ہم کلمہ پر ایمان کیوں لائیں۔اس لیے کہ ہمیں معلوم ہے کہ کلمہ پر ایمان لانے کے بعد ہمیں کونسی چیزوں کا انتخاب کرنا ہو گا اور کونسی چیزوں کو چھوڑنا ہو گا۔علامہ اقبالؒ کی شاعری اسوہءِ حسنہ کی ترجمان ہے۔آپؒ نے ایک شعر میں رسول اللہ ؐ سے مخاطب ہوتے ہوئے یہ اعتراف بھی کیا کہ   جو کچھ  میں نے کہا وہ قرآن و سنت سے ماخوز ہے اور اگر یا رسول اللہ ؐ ایسا نہ ہو تو مجھے روزِ قیامت اپنے نورانی قدموں کو بوسے سے محروم  کردیں۔فکرِ اقبال ہمیں توحید و رسالت کی اتباع کی طرف لے جاتی ہے۔جس کے بغیر خودی کا تصوری ممکن نہیں۔ علامہ اقبالؒ نے خلیل اللہ حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر فرمایا ہے تا کہ خودی اور صاحبِ خودی کے اوصاف بتائے جا سکیں۔

آپؑ پر بہت سی آزمائشیں اتریں اور  آپؑ  خودی کے مراحل طے کرتے ہوئے  سرخرو ہوئے۔علامہ اقبالؒ نے ایک اور جگہ کہا،

یہ پیام دے گئی ہے، مجھے بادِ صبح گاہی

کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی

اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خودی کے عملی تقاضوں پر پورا اترتے ہیں وہ منصب ِ امامت پر فائز ہوتے ہیں یعنی انھیں اللہ کی طرف سے لیڈر شپ عطا کی جاتی ہے  ۔ ہمارے نوجوانوں کا اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ علامہ اقبالؒ ایک ایسے فکری رہنما ہیں جنہوں نے ہر اعتبار سے تعمیرِ افکار کا فریضہ سرانجام دیا۔علامہ اقبالؒ نے اپنی صلاحتیوں پر انحصار کرنے کو خودی کا نا م دیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ  صلاحیتوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر قومی ترقی کے لیے بروئے کار لایا جائے۔

   ۔لیکچر کے بعد سوال و جواب کا سیشن شروع ہوا  اور مندرجہ ذیل نقاط اخذ کیے گئے۔

  • ہمیں توحید و رسالت کے عملی تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے کیونکہ یہی خودی کا نصب العین ہے۔
  • نئی نسل میں تصورِ خودی کا اجاگر کر کے ان کے رجحانات میں مثبت تبدیلی لانی چاہیے۔
  • خودی خود غرضی میں بدل گئی ہے ۔اگر میڈیا مثبت کردار ادا نہیں کر رہا تو ہمیں مل کر کوئی حکمتِ عملی اپنانی چاہیے۔
  • ہمیں دستیاب وسائل اور ذرائع کو بروئے کار لا کر خوشحالی کی طرف بڑھنا چاہیے۔
  • اسوہءِ حسنہ صاحبِ فکر کے احترام کا درس دیتا ہے۔ ہمیں ہر مذہب اور مسلک کے صاحبِ علم  و فکر کو عزت کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔
  • اسلام Constructive Approach کا درس دیتا ہے اس لیے ہمیں دوسروں کی خوبیوں پر نظر رکھنی چاہیے اور اصلاح پر توجہ دینی چاہیے۔
  • اقبالؒ نے اپنے والد صوفی نور محمد سے طریقت سیکھی اور استادِ محترم مولانا میر حسن کے زیرِ سایہ   عربی اور فارسی کا ذوق پیدا ہوا۔موجودہ دور  میں بھی والدین اور اساتذہ کو  چاہیے کہ وہ نئی نسل کو پروان چڑھانے میں مثبت کردار ادا کریں۔ علامہ اقبالؒ نے مغرب میں کافی وقت گزارا مگر اساتذہ اور والدین کی تربیت کا نتیجہ تھا جس نے اسلامی تہذیب وتمدن سے دور ہونے نہیں دیا۔

آخر میں جنرل حمید الدین نے تمام شرکاء  کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ  سیرت النبیؐ کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں اور کردار  نئی نسل کی کردارسازی میں اہم کردار ادا کریں۔علامہ اقبالؒ  کی  تعلیمی قابلیت کو خراجِ ِ تحسین پیش کرتے  ہوئے کہا کہ  آپ ؒ نے صرف تین ماہ میں جرمن زبان سیکھی اور اسی میں مقالہ بھی لکھا جسے دنیا بھر میں پذیرائی حاصل ہوئی۔اقبالؒ کے خطوط عظیم سرمایہ ہے جس سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتےہیں۔خودی لیڈر بناتی ہے۔لیڈر ہر جگہ موجود ہوتے ہیں مگر ان کے لیول مختلف ہوتے ہیں۔کوئی کسی ادارے کا لیڈر ہوتا ہے، کوئی گھر کا اور کوئی ملک کا۔روح فورم نئی نسل کو اس کی پہچان کرانا چاہتا ہے۔یہاں جتنے لوگ آئے ہیں ان کا ایک حلقہ ہے ۔سب کو چاہیےکہ اپنے حلقے تک ہمارے پیغام کو پہنچائیں اوردوسرے لوگوں کو بھی فورم کی ممبر شپ کی دعوت دیں۔

شرکاء کے نام

زید گل خٹک، جنرل حمید الدین، سید مرتضی علی شاہ، لیفٹینٹ کرنل محمد عمران، محترمہ روبینہ اکرم، میجر اکرم، لیفٹینٹ کرنل حامد بٹ، سیدہ حالہ بخاری، مریم افضل، جمیل یوسف، عمر شہزاد، زاہد عارف ملک، اسکاڈن لیڈر شاہد، محمد یاسین بٹ، ناصر محمود بٹ، عبداللہ جنید

پیغام

موجودہ دور میں امتِ مسلمہ بہت سے تعلیمی، معاشرتی اور اقتصادی مسائل سے دوچار ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ  ہم تصورِ خودی کو سمجھ نہیں سکے جس کی وجہ سے ہماری نوجوان نسل اسلامی تہذیب  و تمدن کے تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔ہم  نہ صرف اپنی شناخت کھو رہے ہیں بلکہ اسلامی تہذیب وتمدن سے بھی دور ہو رہے ہیں۔ہمیں متحد ہو کر تمام مسائل کا حل تلاش کرنا ہے اور مل کر اسے عملی جامہ پہنانا ہے۔روح فورم اسوہءِ حسنہ کی روشنی میں تعلیمی، سماجی، ثقافتی، معاشرتی اور اقتصادی و تجارتی خوشحالی کے لیے سرگرم ِ عمل ہے۔ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کو فورم میں شمولیت کی دعوت دی جاتی ہے تاکہ نئے  منصوبوں کی تشکیل کر کے تکمیلی مراحل تک پہنچایا جائے۔ فورم کے مرکزی دفتر میں تمام سہولیات موجود ہیں۔

8fc0eba1-7df9-4baf-8ccd-35d788a33080 767b6e5a-2707-4699-9464-227ccd2128cf 57635800-7328-4dc8-b535-111ab91c6656 b3d0ecff-9e28-446f-a878-4016c99afcf8 b3d31a23-b6df-4cd2-bff4-e0845987bb1a

Slide9