روح فورم کا سلسلہ وار تربیتی و تعلیمی لیکچر بعنوان “معاشرتی مسائٖل اور ان کا حل” 4 فروری 2017 بروز ہفتہ دن 11 بجے، روح منزل، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، بحریہ ٹاون فیز اے، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات اور طلبہ و طالبات نے شرکت فرمائی۔
زید گل خٹک نے لیکچر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں ہر فردِ معاشرہ کو مسائل کے حل کے لیے سیرتِ طیبہ کی طرف توجہ دینی چاہیے۔انسان کا اول و آخر مقصد کردار سازی ہے۔حضورؐ کے چچا حضرت عباس ابن ِ ابو المطلب ؓ نے ایک مرتبہ آپؐ سے فرمایا کہ مجھے حکمرانی سونپیں ۔آپؐ نے ارشاد فرمایا میں آپؓ کو اپنے نفس پر حکمرانی سونپتا ہوں۔ہر شخص اپنا حکمران ہے۔اللہ تعالی ٰ نے ہمیں تقویٰ اختیار کرنے کا حکم فرمایاہے۔جب کوئی طالب علم استاد کا احترام کرتا ہے تو گویا تقویٰ اختیار کرتا ہے۔جب کوئی استاد اپنے منصب کو پہنچانتے ہوئے فرائض ادا کرتا ہے تو گویا تقویٰ اختیار کرتا ہے۔جب کوئی منصف عدل اختیار کرتا ہے تو گویا تقویٰ اختیار کرتا ہے۔جب کوئی تاجر یا کاروباری شخص ایمانداری کا مظاہرہ کرتا ہے تو گویا تقویٰ اختیار کرتا ہے۔جب ہم لوگ اپنے اپنے شعبوں میں محنت کے ساتھ تقویٰ اختیار کریں گے تو بہت سے معاشرتی اور اقتصادی مسائل خود بخود حل ہوتے چلے جائیں گے۔
انسانی معاشرہ دو ارکان سے وجود میں آیا ۔آدمؑ و حواؑ ۔یعنی میاں اور بیوی۔یہیں سے معاشرہ استوار ہوا۔معاشرہ صرف افراد سے نہیں بنتا بلکہ ان کی خصوصیات سے بنتا ہے۔قرآن ِ عظیم سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ ہم جڑت(Integration) اختیار کریں۔حقوق العباد کو ملحوظِ خاطر رکھیں اور اختلافات سے بچتے ہوئے امن کی فضا قائم کریں۔ میاں بیوں اگر ایک دوسروں کی قدر کریں گے تو محبت و آشتی کی فضا قائم ہو گی اور ایسے ماحول میں اچھے شہری پروان چڑھیں گے۔بچوں کے لیے دوسری درسگاہ تعلیمی ادارہ ہے۔انھیں اساتذہ کا احترام کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ؐ کو معلم ِ اعظم بنا کر استاد کے مقام کو عظمت عطا فرمائی۔اسی طرح اساتذہ کو بھی چاہیے کہ وہ جدید تقاضوں اور نفسیاتی رجحانات کے مطابق طلبہ کو نہ صرف علمی دولت سے آراستہ کریں بلکہ ان کے اخلاق و کردار کو بھی سنواریں۔ معلم کی ذمہ داری اپنی ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ معاشرتی تہذیب ہے۔قرآنِ کریم سے ہمیں درس ملتا ہے کہ ہمیں نقطہ ءِ تصادم سے آغاز نہیں کرنا چاہیے بلکہ دوسرے کا احترام کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہیے۔
آج اسلامی معاشرے کی یہ حالت ہے کہ کوئی مثالی دستور ہمارے پاس نہیں جسے دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔حضرت شیخ سعدی ؒ نے فرمایا تھا کہ بحیثیت فرد ، معاشرے کو مہذب فرد فراہم کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔اگر انفرادی طور پر سب اپنی اصلاح فرما لیں تو معاشرہ مسائل سے پاک ہو جائے گا۔
لیکچر کے بعد تمام شرکاء میں سوال جواب کا آغاز ہوا۔جن کی روشنی میں مندرجہ ذیل نقاط سامنے آئے۔
- جہاں والدین کا مقام واضح کیا جاتا ہے وہاں ہمیں چاہیے کہ انھیں ان کے فرائض سے بھی آگاہ کریں۔
- ہم اپنے حقوق کے لیے ترغیب کر سکتے ہیں کسی کو مجبور نہیں کر سکتے۔ہمیں چاہیے کہ اپنے فرائض بے لوث ہو کر ادا کریں۔
- ہر ملک اور قوم میں کامیابی کا مطلب اپنی تہذیب و تمدن کی روشنی میں لیا جاتا ہے۔ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ بحیثیت مسلمان قوم ہم کس حد تک کامیاب ہوئے۔
- ہمیں خود احتسابی پر توجہ دینی چاہیے اور اپنی خامیوں کو دور کرنا چاہیے۔
- معاشرہ جب جمود کا شکار ہو جائے تو ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ہمیں چاہیے کہ بچوں کو تحقیق و جستجو کی روش کی طرف راغب کریں۔
- ہمیں دوسروں کی اصلاح کے لیے اقدامات اٹھانے چاہییں اس طرح سے ہم اپنی اصلاح بھی کرسکتے ہیں۔
- علماء کو چاہیے کہ وہ مسلکی تعصب کم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کریں تا کہ معاشرے میں امن و اتحاد کی فضا قائم ہو سکے۔
- حلال و حرام میں فرق کرنا چاہیے ۔ تعلیمی، معاشرتی اور اقتصادی خوشحالی کے لیے جائز زرائع بروئے کار لانا چاہییں۔
کرنل سید مرتضی علی شاہ نے کہا کہ باتیں سب اچھی ہیں مگر عملی طور پر ہم Follow Up نہیں کر رہے۔روح فورم کا مقصد ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جہاں لوگ آئیں ،اپنے مسائل بیان کریں، ان کا حل تلاش کریں اور پھر عملی طور پر اس کا اطلاق(Implement) کریں۔ہمیں مل کر چلنا چاہیے تا کہ جب کسی شخص کو ایماندار اور اسوہءِ رسولؐ پر عمل پیرا استاد کی ضرورت ہو تو ہم اس کی رہنمائی کریں،جب کسی کو ایماندار کاروباری شخص کی ضرورت ہو تو ہم اس کی رہنمائی کریں۔الغرض ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کا روح فورم کے پلیٹ فارم پر اکھٹا ہونے سے بہت سے اہم اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔نئے منصوبے تشکیل دیے جا سکتے ہیں۔مواخات ِ مدینہ پر عمل کر کے ہم آج بھی معاشرتی اور اقتصادی خوشحالی کے لیے ایک دوسروں کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ہم کہتے ہیں کہ علمائے کرام غلط رہنمائی کر رہے ہیں مگر اپنے بچوں کو عالم ِ دین بنانے کی طرف راغب نہیں ہوتے۔جب ہم نے دینی معاملات کی ذمہ داری اپنے کاندھوں سے اتار کر دوسروں کو سونپ دی ہے تو حالات کیسے تبدیل ہوں گے۔ہم کہتے ہیں کہ تجارت و کاروبار کے شعبوں میں بے ایمان لوگ قابض ہو گئے ہیں ۔اگر ہم اپنے بچوں کی اخلاقی تربیت کر کے سیاست، کاروبار وتجارت میں نہیں لائیں گے تو جو کچھ ہو رہا ہے ویسا ہی ہوتا رہے گا۔صرف تنقید کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ لائحہ ءِ عمل تیار کر کے عملی طور پر قدم اٹھانا پڑتا ہے۔کیا ہم مل کر کسی اچھے تعلیمی ادارے کی بنیاد نہیں رکھ سکتے۔ہائپر سٹار، میکڈونلڈ کی طرح اپنا برینڈ نہیں بنا سکتے۔سب کچھ ممکن ہے جس کے لیے اتحاد کی ضرورت ہے۔آج کی میڈیا نئی نسل پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ہماری غلط رہنمائی ہو رہی ہے۔ Conclusion سے پہلے Action Plan کا ہونا ضروری ہے۔
برگیڈئیر منیر نے کہا کہ رزق کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے لے رکھی ہے اس لیے اس حوالے سے والدین کو فکر مند نہیں ہونا چاہیے اور بچوں کی تربیت پر توجہ دینی چاہیے۔ہمیں والدین کی کردار سازی کرنی چاہیے کیوں کہ وہ بچوں کی تربیت گاہ ہوتے ہیں ۔
آخر میں جنرل حمید الدین نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پروگرامز میں آنے والے شرکاء تواتر سے نہیں آتے مگر ہم راستے سے نہیں ہٹیں گے۔اسوہءِ حسنہ سے کردار بنتے ہیں۔بظاہر یہاں آنے سے مالی فائدہ نظر نہیں آتا مگر اخلاق و کردار سنوارنے سے معاشرے پر بہت سے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔علامہ اقبالؒ نے نوجوانوں پر فوکس کیا۔نئی نسل ہمارے پاس قیمتی سرمایہ ہے اور ہم اس سرمائے سے بہت سے کام لے سکتے ہیں اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔ حاضرین ِ مجلس جب اپنے بچوں کے ساتھ فورم کے پروگرامز میں شرکت فرمایا کریں گے تو اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔ہم ابھی تک تقلید کے راستے پر گامزن ہیں۔ہمیں جمود کو توڑ کر آنے والی نسلوں کے لیے نئے راستوں کا انتخاب کرنا ہو گا
نشست کے اختتام پر تمام شرکاء کی باہمی مشاورت سے یہ طے پایا کہ اگلا لیکچر اقبالؒ کے تصورِ خودی پر ہونا چاہیے کیوں کہ اپنی شناخت موجودہ دور کا سب سے اہم مسئلہ ہے اور خاص طور پر نئی نسل کو اقبالؒ کے تصورات سے آگاہی ہونی چاہیے۔
جن احباب نے شرکت فرمائی ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں
زید گل خٹک، جنرل حمید الدین، کرنل سید مرتضی علی شاہ، برگیڈئیر منیر، کرنل شہزاد انور بھٹی، محترمہ مریم افضل، محترمہ عفت یاسمین، سیدہ حالہ بخاری، زاہد عارف ملک، عمر شہزاد، ثاقب فرید، میجر اکرم، ظہیر گجر، عمر رضا، حامد منیر، میاں محمد ریاض
