حضورؐ کے دادا حضرت عبدالمطلب کا گلہ بانی کے حوالے سے پورے عرب میں نام تھا۔کھلے صحرا میں ان کے سینکڑوں اونٹ چرتے تھے۔نذر کے طور پر وہ سو سو اونٹوں کی قربانی کرتے تھے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ ؐ کتنے مالدار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔اس کے باوجود آپ ؐ نے ذرائع معاش میں تجارت (کاروبار) کا انتخاب کیا اور اس سلسلے میں کئی تجارتی سفر بھی کیے۔آپؐ کے حالات و واقعات کاروباری حوالے سے رہنما اصول فراہم کرتے ہیں جن پر عمل کر کے دین و دنیا سنواری جا سکتی ہے۔آپؐ کی ذاتی تجارتی پالیسی کو ہم تین ارکان میں تقسیم کر سکتے ہیں
- انتخاب: اس سے مراد پیشوں میں تجارت کا انتخاب مزاج ِ رسولؐ ہے۔
- دیانت و صداقت: یہ دو چیزیں حضورؐ کے تجارتی اصول ہیں۔
- اشتراکٖ: یہ آپؐ کا تجارتی لائحہ ءِ عمل ہے۔
اب ہم آپؐ کی ہدایات پر روشنی ڈالیں گے تا کہ ان سے ہر فردِ معاشرہ استفادہ حاصل کرے
حدیث مبارکہ ہے۔
قال ؐ بیع ِِ وَ سَلَف ِِ، شرطین فی بیع ِِ، ربح مالم یضمن، بیع ما لیس عندک (عن عبداللہ بن عمروؓ، صحیح)
(آپؐ نے فرمایا: خریدو فروخت کرنا اور راْس المال کو محفوظ رکھنا، مشترکہ تجارتی معاملہ میں شرائط طے کرنا، نفع وہ ہے جو نہ تو پوشیدہ رہے اور نہ کسی ایک کے تصرف میں رہے، خریدو فروخت تیرے پاس نہ ہو یعنی مال ِ تجارت سے سب استفادہ حاصل کر سکیں (circulation of wealth )۔
اس روایت ِ مبارکہ میں آنحضرت ؐ نے تجارت اور کاروبار کو فروغ دینے کے ذرّیں اصول ارشاد فرمائے ہیں۔ کچھ سرمایہ کاروبار میں لگانا چاہیے اور کچھ احتیاطً اپنے پاس رکھنا چاہیے۔مشترکہ تجارت میں معاہدہ طے کرنا، اصول و ضوابط وضع کرنا اور تجارتی سرگرمیوں کو منظم کرنا ضروری ہے۔ایک دوسروں سے رابطے میں رہنا چاہیے، نفع کی تقسیم میں ایمانداری سے کام لینا چاہیے تا کہ اعتماد کی فضا قائم رہ سکے۔ذخیرہ اندوزی سے پرہیز کرنا چاہیے۔
ان ہدایات کو ملاحظہ کرنے سے اندازہ لگ رہا ہے کہ جدید دور کو نظر میں رکھ کر آپؐ نےقواعد ارشاد فرمائے
قال حصین بن قیسؓ انی سمعت الرسول اللہ ؐ یقول “احسنو ا مبایعۃ” (صحاح و سنن)
حضرت حصین بن قیسؓ دیہات میں رہتے تھے۔دیہات کی سوغاتیں شہر مدینہ میں جا کر فروخت کرتے تھے۔آپؓ فرماتے ہیں ایک دفعہ کھانے کی چیزیں (Food Products)لے کر میں مدینہ شریف کی منڈی پہنچا، اللہ کے محبوب ؐ بھی وہاں موجود تھے۔اشیاءِ تجارت کا معائنہ فرما رہے تھے اور تاجروں کو ہدایت دے رہے تھے۔مجھے دیکھا تو پیار سے فرمایا
“اے اعرابی(دیہات میں رہنے والے)، تیرے پاس کیا ہے۔میں نے کہا یا رسول اللہ ؐ میں قربان جاوں میرے پاس کھانے پینے کی اشیاء ہیں۔حضورؐ نے فرمایا ان چیزوں کا کیا کرو گے۔میں نے کہا یا رسول اللہ ؐ بیچوں گا۔آپؐ نے میرے سر پر پیار سے تھپکی دی اور فرمایا”بہت اچھے طریقے سے خرید و فروخت (کاروبار) کرو۔
اس روایت سے تجارت کا عمل اور خصلت دونوں ہمارے سامنے آتے ہیں۔تجارتی عمل سے مراد دستیاب ذرائع پیداوار کا تحفظ، ریپروڈکشن اور ترسیل ہے جبکہ خصلت سے مراد قابلِ فروخت اور زیرِ فروخت اشیاء کا معیار اور ان کی تازگی ہے۔اس کے علاوہ حسنِ معاملہ ہے۔کم نفع، زیادہ برکتیں سمیٹتا ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ فرماتے ہیں کہ میری خالہ کو طلاق ہو گئی۔رسول اللہؐ نے ان سے فرمایا۔کھجور کا کاروبار شروع کرو۔اس میں سے اپنی ضروریات پوری کرو اور خیرات بھی دو (صحاح و سنن)
اس روایت ِ مبارکہ سے مندرجہ ذیل اغراض و مقاصد کھل کر سامنے آتے ہیں۔
- خواتین بھی کاروبار کر سکتی ہیں۔
- اسلامی معاشرے میں سب کسب و تجارت میں مشغول ہوں گے اور بے کار میں وقت ضائع نہیں کریں گے
- سب لوگ تجارت کے ذریعے نہ صرف آمدنی کمائیں گے بلکہ نفع میں سے کچھ حصہ معاشرتی بہبود پر بھی خرچ کریں گے۔
حضرت عثمان ؓ جو خود بھی مالدار تھےا ور فلاحی کاموں میں خرچ کیا کرتے تھے فرماتے ہیں۔
“وہ شخص جنت میں جائے گا جس نے خریدو فروخت کے معاملات یعنی کاروبار و تجارت میں سہولت پیدا کی”(صحاح)
اس حدیث سے جہاں ہمیں معاملات میں حسن ِ اخلاق سے پیش آنے کا سبق ملتا ہے وہاں نت نئی تجارتی سہولیات، فروغِ تجارت اور برکات ِ تجارت کے پہلو بھی نکلتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا” جب دو کاروباری شراکت داروں میں اختلاف ہو جائے اور ان کے درمیان پہلے سے طے شدہ معاہدہ موجود نہ ہو تب وہ محض قسمیں کھاتے ہیں یا ان کا اشتراک ٹوٹ جاتا ہے اور وہ کاروبار ترک کر دیتے ہیں۔(صحاح)
اس روایت مبارکہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تجارت کے لیے سسٹم کا ہونا کامیاب شراکت داری کی دلیل ہے۔حسن ِ انتظام(Proper Management)، باقاعدہ معاہدہ(Contract Record) اور باہمی اعتماد (Self and Mutual Confidence) ہی مشترکہ تجارت کی اساسیات ہیں۔
حضورؐ نے فرمایا “اللہ کا ارشاد ہے (حدیث قدسی) کہ میں نے مال اس لیے دیا ہے تا کہ اقامت صلوۃ اور ادائیگی ءِ زکوۃ میں آسانی ہو (راوی: ابو واقدلیثی ؓ، صحاح)
اس فرمانِ پاک سے واضح ہوتا ہے کہ مالی برکت اور اقتصادی خوشحالی فروغِ دین اور اسلامی تعلیمات کی اشاعت کا باعث بنتے ہیں۔مشترکہ تجارت اور اس کے نفع سے فلاحِ معاشرہ کا تصور اجاگر ہوتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا”اللہ وقار (احتیاط) کے ساتھ خریدو فروخت کا معاملہ (تجارتی معاملہ) کرنے والے سے محبت کرتا ہے۔
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ باہمی تجارتی اور کاروباری معاملات میں ہر لحاظ سے احتیاط برتنے سے جڑت (Integration) برقرار رہتی ہے۔
رسول اللہ ؐ نے فرمایا “زمینی پیداوار (زراعت و معدنیات) اور نخل (اشجار و میوہ جات) کو فروخت کرنےسے پہلے اپنے شرکاءِ تجارت و کاروبار سے صلاح کرو (راوی : حضرت جابر ؓ، صحاح)
اس سے یہ مراد ہے کہ مشترکہ تجارت میں باہمی مشاورت ضروری ہے
روح فورم مشترکہ تعلیمی ، معاشی، اقتصادی اور کاروباری سرگرمیوں کا ایسا مرکز ہے جو نہ صرف معاشرتی خوشحالی کے لیے کوشاں ہے بلکہ اسوہءِ حسنہ اور اصلاحِ معاشرہ کا خواہشمند بھی ہے تا کہ دنیا کے نقشے میں ہم خوشحال قوم کے ساتھ ساتھ اپنی شناخت اور معاشی اقدار کے ساتھ ابھریں۔ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کو فورم میں شمولیت کی دعوت دی جاتی ہے۔کسی کے ذہن میں بھی اگر موجودہ حالات کے پیشِ نظر کوئی تعلیمی، فلاحی، معاشی یا کاروباری آئیڈیا ہے تو وہ فورم کے مرکزی دفتر میں آ کر ہمیں آگاہ کر سکتا ہے۔اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے مشترکہ کاوشیں کی جائیں گی۔مزید تفصیلات روح فورم کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتیں ہیں۔
