“معاشرے میں معلم کا کردار” کے عنوان پر خصوصی نسشت، 31 دسمبر 2016
۔
روح فورم کے زیرِ اہتمام “معاشرے میں معلم کا کردار” کے عنوان پر 31 دسمبر 2016، بروز ہفتہ، سہ پہر 3 بجے، روح منزل، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، بحریہ ٹاون فیز اے، اسلام آباد میں خصوصی کا نشست کا اہتمام ہوا۔جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات نے شرکت فرمائی۔
نشست کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا جس کے بعد سید مرتضیٰ علی شاہ نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ فورم زندگی کے ہر شعبے میں اسوہءِ حسنہ کا احیا ء چاہتا ہے۔ معاشرے میں معلم کے مقام و مرتبہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کائنات کا پہلا معلم ہے اور حضورؐ نے فرمایا کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا۔حضور ؐ کی ذاتِ مبارکہ ہم سے کے لیے رول ماڈل ہے کیونکہ قرآن ِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے
“تمہارے لیے اللہ کے رسول ؐ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے” (الاحزاب)
معلم قوم کا معمار ہوتا ہے اور قوموں کو بنانے سنوارنے میں معلم کا اہم کردار ہوتا ہے کیونکہ معلم کے زیرِ سایہ تربیت پانے والے طلبا مستقبل میں مختلف تعلیمی، معاشی، سیاسی اور اقتصادی شعبوں کے عہدہ دار ہوتے ہیں ۔اگر آغاز ہی سے ان کی اخلاقی اور فکری سمت درست کی جائے تو معاشرہ کبھی مسائل کا شکار نہ ہو۔
علامہ اقبالؒ کے کلام سے مندرجہ ذیل اشعار کا انتخاب کر کے زندگی کی بصیرت پرروشنی ڈالی گئی
جہاں بانی سے ہے دشوار تر کارِ جہاں بینی
جگر خوں ہو تو چشم ِ دل میں ہوتی ہے نظر پیدا
دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کو نور دل کا نور نہیں
یا رب دِل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے
کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اجالا کر دے
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
متاع ِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی
مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
یقیں محکم ، عمل پیہم ، محبت فاتحِ عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں
کہ شاہیں کے لیے ذلت ہے کارِ آشیاں بندی
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
عروجِ آدم ِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہِ کامل نہ بن جائے
طارق نعیم نے اقبال ؒ کی نظم ترنم کے ساتھ سامعین کو سنائی
اے اہلِ نظر ذوق ِ نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ د یکھے وہ نظر کیا
مقصودِ ہنر سوز حیاتِ ابدی ہے
یہ ایک نفس یا دو نفس مثل ِ شرر کیا
جس سے دل دریا متلاطم نہیں ہوتا
اے قطرہ ءِ نیساں وہ صدف کیا ، وہ گہر کیا
شاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہو
جس سے چمن افسردہ ہو وہ بادِ سحر کیا
بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا ہو ہنر کیا
نشست کے چیف گیسٹ سلیمان احمر ٹائم لنڈرز نے تعمیرِ خودی اور شناخت کی اہمیت پر لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں مسلم اقوام ابتری کا سامنا کر رہی ہیں اور اپنی بنیادی اقدار اور شناخت سے بھی لاعلم ہیں۔اس وقت ہمارے ملک کو بہت س مسائل درپیش ہیں۔ہمارے موجودہ نصاب کو معاشرتی اور سماجی تقاضوں کے مطابق نہیں ڈھالا گیا۔ہم لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ ہمارا آئین کیا ہے ۔ہمارا نصاب مرتب کرنے والے اداروں کو کسی ایک مرکزی ادارے کے ماتحت ہونا چاہیے اور اسے چاہیے کہ وہ نصاب مجموعی طور پر قومی اور ملی ضروریات کے مطابق مرتب کرے۔انڈیا میں ایک ہی نصاب اور ایک ہی تاریخ پڑھائی جاتی ہے۔آزاد میڈیا نے ہماری شناخت میں مزید ابہام پیدا کیے ہیں۔ہمارے بچوں کو اسلامی تاریخ سے شناسائی نہیں مگر مغربی علوم میں ان کا گہرا مطالعہ ہے۔نئی نسل پاکستان بنانے کے اغراض و مقاصد سے لا علم ہے۔ریٹائرمنٹ کے بعد کسی بھی شخص کا Vision وسیع ہوتا ہے اور ہمارے ہاں ریٹائرمنٹ کی بعد کی زندگی آرام و سکون کے ساتھ گزاری جاتی ہے حالانکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جس میں ملک و قوم اور نئی نسل کے لیے بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔نوجوان نسل فکرِ اقبالؒ اور قائدِ اعظم کے نظریات نہیں سمجھ پائی۔ہمارے تعلیمی اداروں اور اساتذہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور ان حالات سے نمٹنے کے لیے لائحہ ء عمل تیار کرنا چاہیے۔
سلیمان احمر ٹائم لنڈرز کے لیکچر کے بعد سوال جواب کا سیشن شروع ہوا اور شرکاء نے اپنے خیالات کااظہار کیا جن سے مندرجہ ذیل نقاط سامنے آئے۔
- اسوہءِ حسنہ سے بڑھ کر دنیا میں کوئی ایسی تحریک نہیں جو قیامت تک جاری رہے ۔
- اسوہءِ حسنہ اور فکرِ اقبالؒ کی ترویج معاشرتی، سماجی، تعلیمی اور اقتصادی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے
- Think Tank بنانے کی ضرورت ہے اور اس سے قبل واضح نصب العین ہونا متعین ہونا ہے اور Think Tank کے بارے میں مکمل معلومات ہونی چاہیے۔
- اساتذہ اور سماجی اداروں کو اپنی شناخت کے احیاء کے لیے اقدامات اٹھانے چاہییں۔
- ہم سب کو مل کر ایک پلیٹ فارم پر کام کرنا چاہیے کیونکہ ہمارے مقاصدکی تمام شاخیں اسوہءِ حسنہ سے جڑتی ہیں۔
- ہمیں صحابہءِ اکرام کی زندگیوں سے ہر مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے کیوں کہ وہ رسول اللہ ؐ کے سچے پیروکار تھے۔
- بنیادی تعلیم کی اصلاح کر کے اپنی اقدار کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔
- پوری دنیا میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ہمیں بھی اپنا برینڈ بنانے کی ضرورت ہے تا کہ ہماری مصنوعات کی ترسیل بین الاقوامی منڈی میں ہو سکے۔
- ہمیں دنیاوی معمولات کے ساتھ ساتھ دین کے طرف بھی راغب ہونا چاہیے۔
- پرائمری تعلیم پر توجہ دینی چاہیے۔کیونکہ بچوں کے سیکھنے کی عمر یہیں سے شروع ہوتی ہے۔
- موجودہ نصاب اور تعلیمی نظام پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
آخر میں میجر جنرل حمید الدین نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اختتامی کلمات میں کہا کہ ہمیں اپنی اصلاح کر کے درست سمت کا تعین کرنا چاہیے۔نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ عملی میدان میں آئیں۔علامہ اقبالؒ نے فرمایا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
ہم بہت بڑے مقصد کے لیے یہاں اکھٹے ہوئے ہیں،چراغ سے چراغ جلنے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔قومیں عظتِ کردار سے بنتی ہیں۔مشاہیر کی صورت میں ہمارے پاس عظمتِ کردار کا بہت بڑا سرمایہ موجود ہے۔وہ لیڈر شپ کے اس معراج پر تھے کہ ہم ان میں نقص نہیں نکال سکتے۔آج ہماری پوری قوم یہ چاہتی ہے کہ کوئی ایسا رہنما ہو جو درست سمت رہنمائی کرے۔یہ ملک قربانیوں سے حاصل کیا گیا ہے اور اس میں معلم نے بڑا کردار ادا کیا ۔علی گڑھ جیسے اداروں نے جو علمی خدمات سر انجام دیں قومی ترقی میں ان کے اثرات آج تک نظر آ رہے ہیں۔
شرکاء محفل کے نام مندرجہ ذیل ہیں
سلیمان احمر ٹائم لنڈرز، میجر جنرل حمید الدین، کرنل مرتضی علی شاہ، برگیڈیئر منیر، برگیڈئیر سلیم احمد، جنرل امیر حمزہ، برگیڈئیر سلاوت خان، سید وقاص شاہ، لیفٹینٹ کرنل ذوالفقار، حماد منیر، میاں ریاض، شاہ تاج ثاقب، قراٖۃ العین ناصر، مسز عظمی اعوان، فاطمہ حمید، نصیر احمد، منور احمد، احتشام عباس، محمد فرخ ، عالمگیر خان، مبارک بٹ، مظفر جمیل، محمد ریاض، سعد زبیری، جہانگیر خان، فیاض احمد، ناصر بٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تصاویر

