“دارالندوہ” تاریخی پس ِ منظر، موجودہ صورتِ حال اور عصرِ حاضر کا تقاضا

  اسلامی تاریخ کی مستند کتب، تاریخ ِ ابن ِ اسحاق، تاریخ ابن ہشام، طبقات ِ ابن سعد، تاریخ ِ ابن اثیر، تاریخ ِ خلیکان، تاریخ الخلفاء للسیوطیؒ، تاریخ ِ طباطبائی اور الایام العرب سے مختصراً  ترجمہ پیش ِ خدمت ہے

“سیدنا اسماعیل ؑ کی شادی بنو جرھم میں ہوئی۔یہ ایک بدوی عرب قبیلہ تھا۔چشمہءِ زمزم سے فیض یاب ہونے والے اس قبیلہ کے مرد و خواتین نے سیدہ ہاجرہؑ کی بہت خدمت کی۔ان کو یہ شرف بھی حاصل ہوا کہ یہ سیدنا اسمعٰیل ؑ کے انصار اور سسرال بنے۔سیدنا اسمعٰیلؑ  کے وصال کے بعد آپؑ کے فرزند ِ جلیل سیدنا قیدار بن اسمٰعیل ؑ نے مکہ مکرمہ میں ہدایت کا علم بلند رکھا۔ہدایت اور اسوہءِ ابراہیمی کا با برکت سلسلہ حضرت عدنانؑ تک جاری رہا جن کا سلسلہءِ نسب 37 ویں پشت پر حضرت اسمعٰیلؑ سے جا ملتا ہے۔بلکہ حضرت عدنان کے بھائی حضرت عَک ؓ نے یمن میں اسلامی سلطنت قائم کی۔لیکن حضرت عدنان ؑ کے بعد بنو اسمعٰیل پر زوال آیا۔بنو جرھم نے شرک کرنا شروع کیا۔بنو اسمعٰیل دینِ حنیف کے ترجمان تھے۔انہوں نے بنو جرھم کی مخالفت کی۔نوبت جنگ تک آ پہنچی اور بنو اسمعٰیل کو مکہ شریف سے بے دخل کر کے ان کے حق سے محروم کر دیا گیا۔یہ واقعہ 207 سن عیسوی میں پیش آیا۔بنو جرھم بنو اسمعٰیل کے ماموں زاد تھے۔ان پر بنو اسمعٰیل کے بے پناہ احسانات تھے لیکن انہوں نے نہ صرف بنو اسمعٰیل کا حق ضائع کر دیا بلکہ توحید سے بھی بر گشتہ ہو گئے

440 ء میں صورت ِ حال نے پلٹا کھایا۔محبوب ِ پاکؐ کے جد ِ امجد سیدنا قصی ابن کلابؓ اس شان و شوکت کے ساتھ لشکرِ توحید سمیت مکہ میں داخل ہوئے کہ کسی کو مقابلہ کرنے کی جرات ہی نہیں ہوئی اور خون کا ایک قطرہ بہے بغیر مکہ فتح ہو گیا۔قصی ابن کلاب ؓ صحن ِ حرم میں داخل ہوئے۔بتوں کو پاش پاش کیا۔خانہ کعبہ کا طواف کیا۔اہلِ مکہ نے آپ ؓ کی پیروی کی

آپؓ نے مکہ شریف میں نہایت مستحکم اسلامی حکومت قائم کی۔آج کل کی اصطلاح میں اسے جمہوری یا شورائی حکومت کہا جا سکتا ہے۔کمال ِ انتظام (Town Planning)  کی ۔پہاڑیوں پر رہائش بنوائی۔وادیوں میں زراعت اور باغبانی کو رواج دیا۔ریاست کے چار شعبہ جات قائم کیے

  • رفادہ: داخلی انتظام، فلاح و بہبود، رفاہ ِ عامہ اور حفاظت کا ذمہ دار تھا۔
  • سقایہٖ: وزارت حج و مذہبی امور، کعبہ شریف کی نگرانی، (یہ محکمہ آپ ؓ نے خاص طور پر بنو عدنان میں رکھا۔اس کے سربراہ آپؓ خود تھے۔
  • حجابہ: یہ شعبہ خارجہ امور اور تجارت کا ذمہ دار تھا۔
  • قیادہ : یہ فوج کا شعبہ تھا۔

آپؓ نے قومی پرچم بھی رکھا جس کا نام لواءِ محمدی تھا (یہ آپ کی ولایۃ اور امامۃ کا حیران کن پہلو ہے)۔اس کے علاوہ سیدنا قصی ابن کلابؓ نے پارلیمنٹ بنائی جس میں تمام قبائل کو نمائندگی حاصل تھی۔اس کا نام آپؓ نے (دارالندوہ) رکھا۔اس کا ترجمہ اردو میں اس طرح ہو سکتا ہے (آواز بلند کرنے کی جگہ)۔اس کے سربراہ آپؓ خود تھے۔اسی دارالندوہ میں آپ ؓجمعہ کے دن خطاب فرماتے تھے۔تمام نمائندگان کو دینِ ابراہیمی کے آداب بتاتے تھے اور اپنی ہر تقریر کو اس جملہ پر اختتام پذیر فرماتے” مجھے اپنی پشت سے آخری نبیؐ کی خوشبو آ رہی ہے، میرا فرزند دنیا میں بہت جلد جلوہ گر ہونے والا ہے” محمدؐ، بن عبداللہ ؑ، بن عبدالمطلبؑ، بن ہاشمؑ، بن عبداللہ بن قصی بن کلابؑ

بر ِ صغیر پاک  ہ ہند میں “دارالمصنفین ندوہ اعظم گڑھ” کا نام قابل ِ ذکر ہے۔یہ ادارہ پہلے علی گڑھ تحریک کا تالیفی شعبہ تھا۔بعد میں اس نے “ندوہ العلماء لکھنو” کے نام سے الگ شناخت بنالی۔قیام ِ پاکستان کے بعد یہ تحقیقی ادارہ لاہور منتقل کیا گیا اور اس نے “ادارہ ءِ ثقافت ِ اسلامیہ” کے نام سے اپنا تحقیقی سفر جاری رکھا۔اس ادارے سے بڑے بڑے نام وابستہ رہے ہیں۔سید سلمان ندوی، مولانا عبداسلام ندویؒ، مسعود عالم ندوی وغیرہ۔ان علماء نے علمی و تحقیقی سطح پر گرانقدر خدمات انجام دیں۔

ہمارے بعض علمائے  کرام بغیر تحقیق کیے   تاریخی پسِ منظر کو جانچے بغیر     دارالندوہ   اورندوۃ العلماء لکھنو کے بارے میں غلط فہمی پیدا کر کے فرقہ واریت پھیلانے میں مصروف  ہیں حالانکہ  اسوہءِ حسنہ کی روشنی میں تحقیق اور سچائی علمی فریضہ ہے ۔یہ وقت امتِ محمدی ؐ کو توڑنے کا نہیں بلکہ جوڑنے کا ہے۔اتحاد و یگانگت قائم کرنے کا ہے ۔سچائی اور محبت کا پرچم بلند کرنے کا ہے تا کہ ہم  اپنی شناخت پر لگے دھبے   مٹا سکیں۔

کیا موجودہ وقت میں دارالندوہ جیسے پلیٹ فارم کی ضرورت نہیں  جہاں ہر فردِ معاشرہ  کو شمولیت اور اپنی آواز بلند کرنے کی اجازت ہو۔  جہاں لوگ اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں۔جہاں آباد کاری کی منصوبہ  بندی ہو۔جہاں تعلیمی اور تربیتی منصوبوں سے نہ صرف کردار سازی کی جا سکے بلکہ  ہنر مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کر کے محنت و مشقت (جو کہ سنتِ رسولؐ ہے) کی طرف گامزن کیا جائے۔جہاں اپنی مدد آپ کے تحت منظم فضا پیدا کی جائے اور خوشحالی کا سفر طے کیا جائے۔جہاں دین کی تعلیم دی جائے۔

لازماً  ان تمام باتوں سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔مگر ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ہم نے اب تک کون سے فرائض سر انجام دیے ہیں ۔کیا ہم زندگی کے مقاصد سمجھ کر معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں  ۔روح فورم تمام احباب کو دعوت دیتا ہے۔آئیں اور اسوہءِ حسنہ کی روشنی میں ایسی منصوبہ بندی  کریں جس سے تعلیمی، معاشی، سماجی، تجارتی اور اقتصادی شعبوں میں ترقی کر کے قومی خوشحالی کو ممکن بنائیں۔ان تمام شعبوں کے لیے فورم کے مرکزی دفتر میں تمام تر سہولیات موجود ہیں۔ہماری ویب سائٹ پر دیگر تفصیلات بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔

ruh-cont

RUH Manzil, 3rd Floor, Rauf Tower, DHA 2, Sector A, Islamabad

Phone: 051-5162023-5

Cell: 03357771005