عدم استحکام

مسائل کی تشخیص اور ان کا حل ،قرآن و سنۃ اور آثار کی روشنی میں

  • تشخیص

کان أَمرُهُ فُرُطاً(القرآن)

اُس کے کاموں میں افراط و تفریط ہے

ہمار ا معاشرہ آج جس عدم استحکام کا شکار ہے اس کے نوع بہ نوع وجوہات میں ایک مہلک وجہ افعال و دائرہ ءِ اعمال کا  افراط و تفریط ہے۔ہر کوئی اپنی ذمہ داری سے غافل اور دوسروں کے کام کو سَر لینے کا شائق و متمنی ہے۔علماء  کا  کام تعلیم و تعلم ہے لیکن انھوں نے سیاست کو اوڑھنا بچھونا بنایا ہوا ہےفقراء کا وظیفہ سیرت سازی ہے لیکن خانقاہیں کاروباری مراکز بن چکی ہیں۔کسب گر  کا عمل معاشرہ کی تزئین و آرائش ہے پر وہ ملازمت کی وادی میں قدم دھر چکا ہے۔یہ وہ   Fault  ہے جس نے ہمارے عمران کو منتشر کر دیا ہے اور وہ حرکی حالات سے محروم ہو کرتنزل کی طرف جا رہا ہے

  • حل

اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّیٰ (القرآن)

بے شک آپ لوگوں کا میدانِ عمل الگ الگ ہے

اللہ کی کتاب نے اس درد کا درمان بنا دیا ہے وہ یہ کہ ہر شخص کو اپنی ذمہ داری کا ایفا کرنا چاہیےترکیب تنوع سے ظہور پزیر ہوتی ہے اور پھر نمو کرتی ہے۔تکوینی نظام چاند، سورج زمین وغیرھم کے اپنے اپنے عمل سےجڑت کی وجہ سے قائم ہے۔ اس طرح تشریعی نظام بھی اپنے اپنے کاموں سےعہدہ بر آ ہونےکی صورت میں استحکام کی شاھراہ پر گامزن ہو گا۔جب اہل ِ اقتدار بصیرت و حکمت و عدل سے کام لیں گے۔صاحبانِ منبر و محراب آداب ِ زیست کا ابلاغ کریں گے۔سجادہ نشین تزکیہ و سیرت سازی کی زمہ داری پوری کریں گے۔کسب گر معاشرے کی تعمیر کا کام نمٹائیں گے۔ملازم اور ریاستی اہلکار Agitation  کا حصہ بننے کے بجائے اپنے فرائض ِ منصبی پر توجہ دیں گے۔کاروباری لوگ اشتراکِ معاملہ سے منفعت عامہ کی بَنا ڈالیں گے تو موجودہ عدم استحکام ختم ہو جائے گا

ruh-cont

RUH Manzil, 3rd Floor, Rauf Tower, DHA 2, Sector A, Islamabad

Phone: 051-5162023-5

Cell: 03357771005