تعلیمی نتائج و اثرات

مسائل کی تشخیص اور ان کا حل ،قرآن و سنۃ اور آثار کی روشنی میں

  • تشخیص

ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم

              کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ  

اقبالؒ

ہمارا تعلیمی مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم برائے تحصیل ِ روزگار ہے،تعمیرِ افکار و کردار نہیں۔اس کا لازمی نتیجہ مغربی تقلید ہے۔مغربی تقلید معروضی ہے، یعنی صرف الحاد و اشتہا میں ہے۔ترقی و ارتقا میں نہیں۔وگرنہ خاکِ مدینہ  و نجف کو آنکھ کا سرُمہ بنا کر جلوہءِ دانش ِ فرنگ سے مثبت فائدہ اٹھانے میں کیا مضائقہ ہے۔آج بھی اگر تعلیم کو تزکیہ ء ِ نفس اور مکارم اخلاق کے تزئین و آرائش سے وابستہ کر دیا جائے تو الحاد کا شائبہ نہیں ارتقا و احیاء کا شعبہ قائم ہو سکتا ہے

  • حل

علم را برتن زنی مارے بود

                     علم را بر دل زنی یارے بود (حضرتِ رومؒ)

علم سے جزوی مقاصد کا حصول وابستہ رکھنا اور تن پروری کا وسیلہ بنانا انسانی شرف سے تنزل ہے۔علمی اور تعلیمی مقاصد اعلیٰ و اولیٰ تر ہیں۔تعلیم کا مقصد اگر شعورِ حیات اور تہذیب ِ نفس ٹھہرے تو زندگی کی دیگر جزوی ضروریات از خود نمودار ہوتی ہیں۔حلال کا شعور حصولِ رزق ِ حلال کا سلیقہ سکھاتا ہے۔عدل کا استحضار میرٹ کے نفوز کو یقینی بناتا ہے۔دیانت و صداقت کا تصور تجارت و کاروبار کو جاندار بنا دیتا ہے۔علی ھذا القیاس دیگر مسائل بھی حل ہوتے چلے جاتے ہیں

ruh-cont

RUH Manzil, 3rd Floor, Rauf Tower, DHA 2, Sector A, Islamabad

Phone: 051-5162023-5

Cell: 03357771005