مسائل کی تشخیص اور ان کا حل ،قرآن و سنۃ اور آثار کی روشنی میں
بے روزگاری
- تشخیص
الشَّيطانُ يَعِدُكُمُ الفَقرَ وَيَأمُرُكُم بِالفَحشاءِ (البقرہ)
(شیطان تم کو ناداری اور مفلسی سے ڈراتا ہے اور نازیبا کاموں کی طرف راغب کرتا ہے)
یہ آیت ہمارے آج کے اقتصادی مسائل پر بالکل راست آتی ہے۔بے روزگاری اور معاشی تنگ حالی ہمارا بہت بڑا مسئلہ ہےشیطان ہمیں مشورہ دیتا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کا طریقہ آبرو مندانہ اور دیانت دارانہ ہو ہی نہیں سکتا اور وہ سرکار میں رشوت، روزگار میں ذلت، کاروبار میں خیانت اور اطوار میں اباحیت کی ترغیب دیتا ہے اور اس پر عمل کے نتیجے میں جو معاشرہ وجود میں آتا ہے وہ آج ہمارے سامنے ہے
- حل
وَاللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (البقرہ)
اور اللہ تعالٰی تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے اللہ تعالٰی وسعت والا اور علم والا ہے
اس جزوِ آیۃ میں معاشی تنگ حالی کا حل پیش کیا جا رہا ہےفضل پر مغفرت کو مقدم اس لیے رکھا گیا ہے کہ سرکار میں میرٹ اور عدل، روزگار میں نفاست، کاروبار میں دیانت اور اطوار میں اقدارِ اعلیٰ رونما ہوںفضل میں اصولی طور پر دو معانی ہیں تلاش اور پھیلاو۔فضل کو اشتراک تجارت و کاروبار پر دلیل مانا جاتا ہے۔اقتصادی ماہرین میں الماوردی،ؒ، اقبالؒ اور شریعتیؒ فضل کی قرآنی اصطلاح کو اشتراک ِ معاملہ کے لیے ماحول کے طور پر روا رکھتے ہیں۔اس فضل آمیز ماحول پر اللہ کا وعدہ وسعتِ رزق کا ہے

RUH Manzil, 3rd Floor, Rauf Tower, DHA 2, Sector A, Islamabad
Phone: 051-5162023-5
Cell: 03357771005