ماہِ نومبر: ماہ ِ اقبال

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے

وہ دل وہ آرزو باقی نہیں ہے

نماز و روزہ و قربانی و حج

یہ سب باقی ہیں تو    ُ باقی نہیں ہے

(بالِ جبریل)

علامہ اقبالؒ

اہلیان ِوطن و ملتٖ! رسول اللہ ؐ نے اسوہءِ حسنہ کے احیاء کا کام اپنی اُمہ کو سونپا ہے۔ہر دور میں ایسے مشاہیر آئے جنہوں نے امہ کی فکری اور عملی کمزوریوں کا نہ صرف بجا طور پر احساس کیا بلکہ ان کو دور کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا

امام  جعفر صادق  ؑ، امام ابو حنیفہ ؒ، امام احمد ؒ، حضرت جنید بغدادی ؒ، امام ابن عربی، ابو حامد غزالی ؒ، مولانا رومؒ اور ان جیسی کئی ہستیاں گزری ہیں جنھوں نے  پوری دنیا کو رہمنائی فراہم کی۔

اٹھارویں صدی عیسوی  مسلمانوں کے زوال کا دور ہے۔ خلفائے راشدین کے بعد آج تک ہمیں ایسے سیاسی اور حکومتی ترجمان میسر نہیں آئے جنھوں نے  عام لوگوں کے مفاد  اور ترقی کو ترجیح دی ہو

ہم ایک لمحہ کے لیے بھی یہ دعوی ٰ کرنے میں حق بجانب نہیں کہ بنو امیہ، بنو عباس، سلاجقہ فاطمین، ممالیک، صفوی، عبیدی، خوارزمی، سلاطین دہلی ، اسلام کے نمائندہ حکمران تھے۔یہ لوگ الا ماشا اللہ ناجائززرائع سے اقتدار میں آئے  اور مکر کے تحت مسلط رہے۔لیکن ان میں بسا اوقات شیر شاہ سوریؒ اور  غوریؒ جیسے بلند کردار لوگ  بھی آئے ۔ ملوکانہ ادوار میں  کچھ حکمران ایسے بھی آئے  جنھیں اپنے مسلم تشخص کا احساس رہا اور  ا ن   کے دور میں  علوم و فنون کو فروغ حاصل ہوا مگر  دربار تک خوشامدی لوگوں کی رسائی رہی  جس کی وجہ سے معاشرے میں کوئی مثبت تبدیلی رونما نہیں ہوئی

   ابن رشدؒ، ابن ِ سیناؒ، جا حظؒ، ابن ہیثمؒ، ابن ِ طفیلؒ، ابن ِ باجہؒ، فارابیؒ، رومیؒ، مسکویہؒ، الکندیؒ، ابنِ عربیؒ، لطفیؒ، غزالیؒ جیسے اہلِ دانش،  درباری مولویوں کے فتووں کاشکار  ہوئے۔ چنانچہ جب یورپ میں چرچ کی شکست اور بے دخلی کے بعد روشن خیالی کا آغاز ہوا اور سائنسی طرزِ فکر پروان چڑھا تو مسلمانوں کے پاس ان کے مقابلہ میں صرف احساسات تھے۔آلات و ذرائع نہیں تھے۔نتیجہ سب جانتے ہیں ۔

ایسے زوال پذیر دور کی پیشانی پر ایک ستارہ  چمکا جسے لوگ شاعرِ مشرق حضرت علامہ محمد  اقبالؒ کے نام سے  جانتے ہیں۔ آپ  نے شاعری کے ذر یعے معاشرے  کی اصلاح اور خوشحالی و ترقی کا راستہ دکھایا  ۔علامہ اقبالؒ کی شاعری ہر دور کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے کیونکہ آپؒ کی شاعری میں اسوہءِ حسنہ رچا بسا ہے۔اگر ہم موجودہ دور کے مسائل مدِنظر رکھیں تو اقبالؒ کی شاعری سے ہمیں یہ پیغامات ملتے ہیں
o          شدت پسندی نہیں اعتدال کا راستہ اپنایا جائے
o          گروہ بندی کے بجائے اتحاد قائم کیا جائے
o          شکست قبول کرنے کے بجائے محنت و لگن  سے کام لیا جائے
o           نوجوانوں کو چاہیے کہ فلسفہ ء خودی کو سمجھیں اور  خواہشات کی پیروی کے بجائے اپنی تہذیب اپنائیں
o          اقتصادی بحران کو حل کرنے کے لیے  مشترکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیں

روح فورم علامہ اقبالؒ کے ان پیغامات کی عملی ترویج کا خواہشمند ہے لہذا  ماہِ نومبر کو ماہِ اقبالؒ کے طور پر سلسلہ وار پروگرام کے انعقاد کے ساتھ منایا جائے گا
o          اس کی پہلی کڑی کاروباری افراد کا اجتماع
o          والدین اور بچوں کا اجتماع
o          اساتذہ اور بچوں کا اجتماع
o          اہلِ دانش کا اجتماع
تمام احباب سے تعاون اور شرکت کی درخواست ہے تا کہ وسیع البنیاد جڑت قائم کی جا سکے

ruh-cont

RUH Manzil, 3rd Floor, Rauf Tower, DHA 2, Sector A, Islamabad

0335-7771005

051-5162023-5