مَنْ شَارَک َ َ ذِمّیّاََ فَتَوَ اضَعَ لَہُ
جو مسلمان زمی (غیر مسلم) کے ساتھ شراکتِ کاروبار کرے تو اس کا زیادہ خیال رکھے (راوی عبداللہ بن عمرؓ)
Muslim who runs business partnership with a non-Muslim, he should care of him
اسلام انسانیت اور رواداری کا درس دیتا ہے۔ دنیاوی معاملات میں ہر شخص کو یہ خودمختاری حاصل ہے کہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے فرد سے کاروباری شراکت داری(Business Partnership) کر سکتا ہے اور وسیع پیمانے پر کاروبار کرنے کے لیے مشترکہ وسائل بروئے کار لا سکتا ہے۔ ہمارے پیارے دین اسلام نے اقلیتوں کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور اس ضمن میں ہر قسم کی ناانصافی سے منع فرمایا ہے۔روح فورم نے تجارت اور مشترکہ کاروبار کے فروغ کے سلسلے میں ہر مذہب، مسلک اور طبقے سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کے لیے راستے ہموار کیے ہیں اور اس کی اوّلین کوشش شراکت دار(Partner) کے مفاد کو ترجیح دینا ہے