رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا (سورۃ الاسراء)
پروردگار زوالمنن ان دونوں پر رحم فرما جس طرح صغیر سنی میں ان دونوں نے مجھے پالا پوسا
تمام انسانوں کو محبت اور احساس کی لڑی میں پرونے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد ادا کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور حقوق العباد میں والدین کے حقوق ادا کرنے کی ترغیب سب سے زیادہ کی ۔والدین پیدائش سے لے کر آخری سانسوں تک اولاد کی خوشیوں اور خواہشات کے لیے ہر قسم کی تکالیف اور مصائب برداشت کرتے ہیں اور گھنے پیڑ کی طرح حالات کی تپتی دھوپ سے بچاتےہیں۔حدیث مبارکہ ہے ۔
اللہ کی رضامندی ، والد کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی، والد کی ناراضگی میں ہے (جامع ترمذی)
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر دریافت کیا: میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کو ن ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آپکی ماں ۔ اس شخص نے پوچھا پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آپکی ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آپکی ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آپکا باپ۔( بخاری شریف)
رسول اللہ ؐ سے جب بڑے گناہوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ؐنے فرمایا خدا کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی اور ایذارسانی کرنا، کسی بندے کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دنیا (بخاری شریف)
والدین کا نافرمان اللہ تعالیٰ کے قہرو غضب میں جکڑ لیا جاتا ہے اور وہ دنیا اور آخرت کی تمام رحمتوں اور نعمتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ہمیں چاہیے کہ والدین جب تک حیات ہیں ان کو ہر آسائش و آرام فراہم کریں اور جب پردہ فرما لیں تو ان کے لیے دعائے مغفرت کریں