روح بزنس گروپ کے کاروباری لائحہ عمل کا لبِ لبا ب یہ ہے کہ دیانت دار اور صداقت شعار کاروباری خواتین و حضرات باہم جمع ہو کر مشترکہ کاوشوں کو بروئے کار لائیں۔ مشترکہ ملیکت اور سرمائے سے چھوٹے ، اوسط اور بڑےمنصوبوں(Small, medium and mega projects) کی داغ بیل ڈالیں۔ منافع کے حصول کے بعد معیاری پیداواریت (Brand Production) کا آغاز کریں۔اس طرح ہم اپنے ملک کےخام مال بالخصوص زرعی اجناس کو تجارتی مراکز تک با آسانی پہنچا سکیں گے اور ہماری برآمدات (Exports) فعال ہو جائیں گی۔یوں ہم اپنے تمام زرائع کو متحرک کر کے معاشی استحکام کی ابتدا کر سکتے ہیں ۔توسیعی عمل کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں ہنر مندی کے مراکز قائم کر کےموئثر پیشہ ورانہ تعلیم و تریبت کی بنیاد ڈالی جائےتاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے بے روزگاری جیسے مسئلہ پر قابو پایا جا سکے اورمختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد خصوصاّ بے سہارا خواتین اور نوجوان اپنے پیروں پر کھڑے ہوں۔ ہم مایوسی ،لاچارگی اور گداگری جیسے رجحانات کو ختم کر کے معاشرے کے ہر رکن کو فعال (Active) بنا کر ایک خوشحال معاشرہ قائم کر سکتے ہیں ۔کاروبار میں اشتراک ِ معاملہ (Partnership) کوئی نئی حکمت ِ عملی نہیں بلکہ اس کے متعلق قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں ٹھوس دلائل اور شواہد موجود ہیں جیسے
- اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا “آل عمران:200 ”
“صبر کرو، استقامت اختیار کرو اور جڑے رہو”
- جس نے باہمی معاملہ (مشترکہ کاروبار) کیا اُس نے فلاح پائی “الحدیث”
بہت سے صحابہء کرام ؓ اور ہمارے اسلاف نے اسی حکمتِ عملی کو اپنایا اور ترقی کی راہوں پر گامزن ہوئے۔
اگر ہم بین الاقوامی سطح پر اشتراکِ معاملہ کا تجزیہ کریں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ اس حکمت ِ عملی کو اپناتے ہوئے دوسرے ممالک نے بہت ترقی کی اور اپنی مصنوعات کو مختلف شاخوں کے ذریعے دنیا کے کونے کونے میں پھیلا دیا۔جس سے انفرادی طور پر نہ صرف ان کمپنیوں کے مالکان اربوں روپے کی آمدن حاصل کر رہے ہیں بلکہ اجتماعی طور پروہ ملک بھی ترقی کر رہا ہے جس سے وہ تعلق رکھتے ہیں۔پیپسی، میکڈونلڈز اور مختلف ملٹی نیشنل کمپنیاں وغیرہ اس کی مثال ہے
قرآن و حدیث کی روشنی میں اشتراکِ معاملہ کو ہر طرح سے پرکھنے کے بعد ہم تمام کاروباری خواتین و افراد کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ایک پلیٹ فارم میں اکھٹے ہو کر انفرادی اور اجتماعی خوشحالی کا آغاز کریں۔اس سلسلے میں روح فورم نے DHA-II میں مشرکہ کاروبار کا مرکزی دفتر قائم کر کے تمام سہولیات فراہم کر دی ہیں۔اب ہم اجتماعی جڑت کے منتظر ہیں۔چونکہ جماعت( باہم جڑنے) پر اللہ کا ہاتھ ہے۔کما قال رسول اللہ ﷺ (یَدُ اللّٰہِ عَلَی الْجَمَاعَۃِ)