الکاسب کا مقام اور اہمیت
(قرآن و سنۃ اور تاریخی آثار کی روشنی میں)
الکاسب قوائد کی رو سے اسم ِ فاعل ہے۔اس کا مادہ تخریج کَسَبَ ہے۔اردو میں اس کا مفہوم کمانے والا، حاصل کرنے والا اور سیکھنے والا ہوتا ہے ۔
قرآن و سنت میں یہ ا صطلاحاًَ َ اور لغواًَ بہت سے معانی میں استعمال ہوا ہے۔ تمام نیک اعمال کے لیے یہ لفظ آیا ہےمثلاً
“ لَھَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ”
ترجمہ : “انہوں نے جو کچھ نیک اعمال کیے اس کا صلہ ان کو ملے گا اور تمہارے لیے باعثِ اجر وہ اعمال ہوں گے جو تم خود کرو گے”۔قرآن ِ عظیم میں یہ لفظ کمائی کے مفہوم میں بھی صراحتاًاستعمال ہوا ہے۔
اﻛْﺗَﺳَﺑَتْ ﻟَﮭَﺎ ﻣَﺎ ﻛَﺳَﺑَتْ وَ ﻋَﻠَﯾْﮭَﺎ ﻣَﺎ
کتاب اللہ میں یہ لفظ کسی پیشہ یا عمل کے حوالے سے اس انداز سے بھی استعمال ہوا ہے جس کے تحت اس عمل کے اجر اور اس کام کے اجرت پر عامل یا پیشہ ور کا حق ہو گا بالفرض اگر کام کے اجرت پر عامل یا پیشہ ور کا حق ہو تو اس کا وبال بھی لازماً پڑے گا
كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ
ترجمہ ” ہر شخص اپنے کسب میں مرھون ھے “
قرآن میں ناشائستہ اور ناگوار اعمال کے لیے بھی یہ لفظ آیا ہے ۔
بَلٰی مَنْ کَسَبَ سَیِئَةً وَ اَحَاطَتْ
ترجمہ ” ہرگز نہیں جس نے برائیاں کمائیں اور اس کی خطائیں اس پر مسلط ہو گئیں
رسولؐ نے اس لفظ کو بطور فاعل ، کام دان، پیشہ ور، ھنر مند اور محنت کش کے لیے استعمال فرمایا ہے ۔بلکہ ساتھ ساتھ پیشہ ، ھنر اور محنت کی غایت درجہ ترغیب دی ہے
حضورؐ کا ارشاد ہے ” الکاسب حبیب اللہ” کاسبی اللہ کا دوست ہے”
ایک مرتبہ حضورؐ سے پوچھا گیا کہ کون سا کام افضل ہے تو آپ ؐ نے فرمایا روقِ حلال کمانا سب سے عمدہ عمل ہے۔اب ظاہر ہے رزقِ حلال کےحصول کے لیے ایک معین پیشے کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ انسان عمران، اقتصاد اور معاش کی بنیاد مختلف پیشوں پر ہے۔ان میں سے کوئی بھی پیشہ اگر معاشرے سے نفی کر دیا جائے تو معاشرے کی ھیئت ِ ترکیبی ادھوری رہ جاتی ہے اور یہ اللہ کی منشا اور سنتِ قائمہ کے خلاف ہے۔سو کسی پیشہ کو حقیر جاننا اللہ کی حکمتِ بالغہ سے بغاوت ہے ۔جس کی گنجائش کم از کم دین میں نہیں۔
رب ِ جلیل نے فرمایا ہے “ہم نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے لیے شرعی اور کسبی راستے رکھے”ان تمام چیزوں کے لیے اللہ نے ایک نظامِ اعتدال اور میزان بنایا تا کہ نظم و ضبط ، امر کی صورت میں قائم رہے۔امیر، امر اور مامور دراصل Management System پر دلالت کرتے ہیں
قرآن مجید میں ارشاد ہے “لَیَجعَلَ بَعضُکُم بَعضاً سُخرِیّاً”
یہ امر کا نظام اس لیے وضع فرمایا کہ تم میں سے بعض کو مسخر (Manage) کر سکیں ۔یہ دراصل Team Workاور Joint Venture کی طرف اشارہ ہے۔
یاد رہے کہ اسلام میں فضیلت کا معیار تقوی پر ہے ، پیشوں پر نہیں۔اسلام نے یہ دیکھنا ہے کہ جو کسب یا پیشہ آپ نے اخیتار کیا ہے آپ اس میں صادق اور دیانت دار کتنے ہیں
“إنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ” آپ میں اللہ کے نزدیک صاحبِ فضیلت وہ ہے جو تقوی دار ہے
یعنی اپنے معاملات میں کھرا ہے۔اور دیانت دار بندے کی حیثیت سے اپنے آپ کو اللہ کے حضور پیش کرسکتا ہے۔
حاصلِ بحث کہ کسی پیشہ کو تحقیر کی نظر سے دیکھنا یا اس پیشہ سے وابستہ افراد کو حقارت سے دیکھنا جاہلیت کا شائبہ ہے اور نفاق اور تکبر کی علامت ہے
اس لیے افضل الخلق سید الخلائق حضرت محمدؐ نے بنفس ِ نفیس سارے کام کیے تا کہ تمام تکاسیب اور پیشوں کی اہمیت اجاگر ہو جائے اور وہ سنت کے درجے میں آ جائیں۔یہی تو فلسفہ ہے اسوہءِ حسنہ کا۔آپ ؐ نے بکریاں چَرائیں۔اونٹنی کا دودھ دھویا۔کھجور کے درخت لگائے۔پودوں کو پانی دیا ۔اپنے کپڑے سلائی کیے۔حضرت خدیجہ سلام اللہ علیھا کے لیے اجرت پر کام کیا۔صحرامیں لکڑیاں جمع کیں تا کہ امت کے لیے سبیل قائم ہو جائے اور وہ کسی بھی پیشہ یا کسب کو حقیر نہ جانے۔اگر ہم انبیا و مرسلین علیھم السلام کی تاریخ اور آثار پر نظر ڈالیں تو ان میں اکثر بعض پیشوں کے ساتھ کل وقتی طور پر وابستہ تھے۔
آدم ؑ کھیتی باڑی کرتے تھے –
شیث ؑ کنواں کھودنے کا کام کرتے تھے –
حضرت ادریسؑ کپڑے سیتے تھے –
حضرت داودؑ لوہا سے زرھیں اور اوزار بنانے کا کام کرتے تھے –
حضرت سلمانؑ بادشاہ ہونے کے باوجود تعمیر کا کام کرتے تھے –
ہمارے آقا و مولاؐ تجارت اور گلہ بانی کرتے تھے –
اتنے مضبوط دینی اور تاریخی پسِ منظر کے باوجود قابلِ غور بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں بعض پیشوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔اس کی ایک بنیادی وجہ تو دین سے جوھری نا واقفیت ہے ۔دوسرے ہمارے روایتی مزاج بھی اس میں دخیل ہے۔ادوارِ ملوکیت میں آقا اور غلام کی تفریق بھی ایک کارفرما عنصر ہے۔جاگیرداری نظام بھی اس رویہ کا متحمل ہے۔ہماری روحانی کمزوریاں ، نخوت، تکبر اور خود پسندی بھی اس کی محرکات ہیں۔نو آبادیاتی نظام نے بھی ایسے تفاریق اور رجحانات کو پروان چڑھایا۔الغرض بہت سے ایسے مفاسد اور صلبی افکار (Evil Thinking) جمع ہو کر ایسا منظر پیدا کر چکے ہیں کہ کسب گر کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جس کا لازمی نتیجہ کسب کے انہدام یا تنزل کی صورت میں نکلتا ہے
روح فورم اس عزم اور جذبہ سے سرشار ہے کہ ان احمقانہ رجحانات کو ختم کر کے الکاسب کو معاشرے میں اس کا عزت مندانہ اور آبرو مندانہ مقام دلوائے اور اس طرح مختلف کسب اور پیشوں کا احیاء کیا جائے
تمام کاسب خواہ وہ پاپوش مرمت ساز ہیں، حجام ہیں، صفائی کرنے والے ہیں، بڑھئی ، لوہار، المختصر جو بھی پیشہ اختیار کیے ہوئے ہیں،معاشرے کے اہم ارکان ہیں۔ان کی وجہ سے معاشرے کی تکمیل ممکن ہے۔نوع بہ نوع معاشرہ ان حضرات کی وجہ سے قائم ہے۔یہ لوگ معاشرے کے خادم ہیں۔لیکن روح فورم کا مقصد ان کو معاشرے کا مخدوم بنانا ہے تا کہ معاشرے کے تمام طبقات ان کی اہمیت کو جانچ سکیں اور استحقاقی مقام دیں۔بقول علامہ اقبال ؒ
قرآن کی پیغام یہی ہے “ہر حق دار کو اس کا حق دو”
“رسولؐ کا فرمان حزر جاں ہونا چاہیے۔”الکاسب حبیب اللہ