تعارف روح فورم/آبروئے ملت اسکول سسٹم

  • روح فورم(Revival of Uswah e Hassanah, Forum)
    انسان اپنے ارد گرد کے اچھے برے حالات سے مثبت یا منفی طور پر متاثر ہوتا ہے۔ایسے میں وہ اپنی اصلاح اور مسائل کے حل کی تلاش کے لیے فکر مند رہتا ہے۔اللہ تعالی ٰ نے قرآنِ عظیم میں ارشاد فرمایا ہے۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب)

بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ؐ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے

قرآن ِ مجید میں حضورؐ کو سراج ِ منیر کہا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ آفتابِ نبوت کی شعائیں زندگی کے ہر شعبہ پر پڑتی ہیں  ۔اسی تناظر میں حکیم الامت، علامہ اقبالؒ کا ایک شعر ہے:-

تو مے دانی متاعِ من از کجا است

        ایں شعاعِ آفتابِ مصطفیؐ است

شعاعِ آفتاب ِمصطفیؐ سے ہم نے زندگی کے مقاصد کو وضع کرنا ہے۔ روح فورم کے قیام کی بنیاد یہی نیت ہے اور انمالاعمال بالنیات کی رعنائی ہے۔ فورم عشق و عمل کے سپاہیوں کو اکٹھا کر کے دم توڑتی انسانیت کو پھر سے زندہ کرنا چاہتا ہے۔

روح فورم کے قیام کا مقصد شعاعِ آفتابِ مصطفیؐ کی عملی سفارت کاری ہے جس کے لیے حکمتِ اقبالؒ کسی خزینے سے کم نہیں

ایمبلم اسکول سسٹم /تعارف(Aabroo e Millat, Baseline Education & Mentoring System-AMBLEM)                   پاک ترک نظامِ تعلیم کے سابقہ منتظمین نے باہمی جڑت کے تحت آبروئےملت کے نام سے ایک ایسے نئے تعلیمی  منصوبے کا آغاز کیا ہے جو والدین، اساتذہ، طلبہ و طالبات میں جستجو پیدا کر  کے نئی نسل کو اس قابل بنائے کہ وہ ملتِ ابراہیمؑ کو اپنا شعار بناتے ہوئے دنیاوی و اخروی کامیابیوں سے ہمکنار ہو سکے اور ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارا بن کر آبروئے ملت کا پاسدار ہو۔ تاکہ بین الاقوامی سطح پر فلاح ِ انسانی کی علمبرداری  اور سفارت کاری میں پاکستان کا نام اجاگر ہو سکے۔اس نظامِ تعلیم کی غرض و غایت ، تعلیم و تربیت  کو اساس، شناخت اور پہچان سے جوڑتے ہوئےجدت کےزیور سے آراستہ کرنا ہے۔
مطمحِ نظر

نئی نسل کو اِ س قابل بنانا کہ وہ  اپنی صلاحیتوں کو عملی طور پر بروئے کار لاتے ہوئے    نہ صر ف  بین الاقوامی معیار   پر پورا اترےبلکہ  مقصدِ حیات کو سمجھتے ہوئے فلاحِ   انسانیت   کو مقصدِ حیات بناکے  ملی اقدار کے احیاء   اور دنیاوی  و اخروی  دونوں زندگیوں میں کامیابی حاصل کرے۔”اور مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا”ا س حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں ایسا مستحکم  اور مربوط تعلیمی نظام  جو طلبہ و طالبات کو اساتذہ کے مقام سے روشناس کروا کر  علم کی مشعلیں روشن کرے۔نئی نسل کو اس قابل بنانا کہ وہ ملتِ ابراہیمؑ کو اپنا شعار بناتے ہوئے دنیاداری کےہر شعبے میں قائدانہ منصب کے قابل بن سکے اور اجتماعی سطح پر اُن کی    تعلیمی و تخلیقی صلاحیتوں سے   قومی  و بین الاقوامی   سطح  تک  مثبت اثرات مرتب ہوں  ۔

اولاد کی تعلیم و تربیت(نیک اولاد صدقۂ جاریہ ہے)

قرآن مجید اور احادیث صحیحہ  میں اولاد کی تربیت کے بارے میں واضح ارشادات موجود ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ

ترجمہ:ا ے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آ گ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اس پر سخت کرّے فرشتے مقرّر ہیں جو اللہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں (التحریم:6)

اس آیت سے معلوم ہواکہ ہر مسلمان پر اپنے اہلِ خانہ کی تعلیم وتربیت لازم ہے۔ ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے بیوی بچوں  اور گھر میں  جو افراد اس کے ماتحت ہیں  ان سب کو احکام الہیہ اور اسوہ حسنہ کی روشنی میں تعلیم دلوائے۔کیونکہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:’’تم میں  سے ہرشخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحتوں  کے بارے میں  سوال کیا جائے گا،چنانچہ حاکم نگہبان ہے،اس سے اس کی رعایا کے بارے میں  پوچھا جائے گا۔ آدمی اپنے اہلِ خانہ پر نگہبان ہے،اس سے اس کے اہلِ خانہ کے بارے سوال کیا جائے گا۔عورت اپنے شوہر کے گھر میں  نگہبان ہے ،اس سے ا س کے بارے میں  پوچھا جائے گا،خادم اپنے مالک کے مال میں  نگہبان ہے ،اس سے اس کے بارے میں  سوال ہو گا،آدمی اپنے والد کے مال میں  نگہبان ہے ،اس سے اس کے بارے میں  پوچھا جائے گا،الغرض تم میں  سے ہر شخص نگہبان ہے اس سے اس کے ماتحتوں  کے بارے میں  سوال ہوگا۔”( بخاری شریف)

جناب سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم  نے اس آیتِ کریمہ  کے تحت ارشاد  فرمایا :

’’ان (اپنی اولاد) کو تعلیم دو اور ان کو ادب سکھاؤ۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’اپنی اولاد کوادب سکھلاؤ، قیامت والے دن تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں پوچھا جائےگاکہ تم نے انہیں کیا ادب سکھلایا؟ اور کس علم کی تعلیم دی۔‘‘(شعب الایمان للبیہقی)

بچوں کی اچھی تربیت سے ایک مثالی معاشرہ وجود میں آتا ہے  اور بے شک بچے مستقبل میں قوم کے معمار ہوتے ہیں۔ اگر اْنہیں صحیح تربیت دی جائے تو اس کا مطلب ہے ایک اچھے اور مضبوط معاشرے کے لیے ایک صحیح بنیاد ڈال دی گئی۔بچوں کی تربیت پر زیادہ توجہ اس لیے دینی چاہیے کہ بچپن کی تربیت نقش علی الحجر(پتھر پر لکیر)کی طرح ہوتی ہے۔بچپن میں ہی اگر بچے کی تربیت رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ کے مطابق کی جائے توبڑے ہونے کے بعد بھی وہ اس منور راستے پر عمل پیرا رہے گا اوراگرایسا نہ کیا گیا  تو بڑےہوکر بچےسے جو بھی برے اخلاق واعمال کے مرتکب ہوں گے، اس کےسراسر  ذمہ دار اور قصور وار والدین ہی ہوں گے، جنہوں نے ابتدا سے ہی ان کی صحیح رہنمائی نہیں کی۔اس امر میں کوئی شک نہیں کہ اولاد کی اچھی اور دینی تربیت دنیا میں والدین کے لیے نیک نامی کا باعث اور آخرت میں کامیابی و کامرانی کا موجب ہے جب کہ نافرمان وبے تربیت اولاد دنیا میں بھی والدین کے لیے وبالِ جان ہو گی اور آخرت میں بھی رسوائی کا سبب بنے گی۔

اولاد کی تربیت دو طرح سے ہے: ظاہری اور باطنی۔ظاہری اعتبار سے تربیت میں اولاد کی ظاہری وضع قطع، لباس، کھانے، پینے، نشست وبرخاست، میل جول ،اس کے دوست واحباب اور تعلقات و مشاغل کو نظر میں رکھنا،اس کے تعلیمی کوائف کی جانکاری اور بلوغت کے بعد ان کے ذرائع معاش کی نگرانی وغیرہ امور شامل ہیں۔یہ تمام امور اولاد کی ظاہری تربیت میں داخل ہیں اور باطنی تربیت سے مراد اْن کے عقیدہ اور اخلاق کی اصلاح ودرستگی ہے۔اولاد کی ظاہری اور باطنی دونوں قسم کی تربیت والدین کے ذمہ فرض ہے۔ ماں باپ کے دل میں اپنی اولاد کے لیے بے حد رحمت وشفقت کا فطری جذبہ اور احساس پایا جاتا ہے۔ یہی پدری ومادری فطری جذبات واحساسات ہی ہیں جو بچوں کی دیکھ بھال، تربیت اور اْن کی ضروریات کی کفالت پر اْنھیں اْبھارتے ہیں۔ماں باپ کے دل میں یہ جذبات راسخ ہوں اور ساتھ ساتھ اپنی دینی ذمہ داریوں کا بھی احساس ہو تو وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریاں احسن طریقہ سے اخلاص کے ساتھ پوری کرسکتے ہیں۔اولاد کی تربیت اگر رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ کے مطابق کی گئی ہوتو ان شاء اللہ اولاد کی دنیا وآخرت بھی سنوارے گی اور اولاد مطیع وفرمابردار اور خدمت کرنے والی بھی ہوگی ان شاء اللہ۔ والدین کی طرف سے اولاد کی صحیح تعلیم و تربیت والدین کے لئے صدقۂ جاریہ اور ذخیرہ آخرت ہے ۔

78774146_2567760596653382_1207117721230114816_n 120411024_3325337070895727_2841732653705921270_n 212315534_4111890945573665_4838198279080322990_n 217325116_4111888222240604_5177223727321906499_n 219186020_4154344374661655_1151936275041609328_n